تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 458 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 458

تاریخ احمدیت جلد ۵ 446 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مخفی آرڈر کئے ہوئے ہیں کہ اگر یہ ریاست سے باہر نکلیں تو پھر ان کو واپس نہ آنے دیا جائے۔مجھے یہ شیخ عبد اللہ کے حالات معلوم ہوئے ان سے میں نے سمجھا کہ یہ آدمی کام کا ہے۔پس کشمیر کی تحریک کی لیڈری کے متعلق میں نے اس وقت تک کوئی فیصلہ کرنا مناسب سمجھا جب تک میں شیخ عبد اللہ سے نہ مل لوں۔چنانچہ میں نے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کو جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری تھے۔اس غرض کے لئے کشمیر بھجوایا۔کہ وہ کشمیر کے حالات بھی دریافت کریں۔اور دوسرے اس بات کا انتظام کریں کہ شیخ عبد اللہ کشمیر کی کسی سرحد پر مجھ سے مل لیں۔چنانچہ درد صاحب نے اس بات کا انتظام کیا۔میں قادیان سے گڑھی حبیب اللہ گیا۔اور درد صاحب شیخ عبد الله صاحب کو لے کر گڑھی حبیب اللہ آئے۔چونکہ گڑھی حبیب اللہ سرحد کشمیر پر تو واقع ہے لیکن سرحد کشمیر سے باہر۔اور برطانوی ہندوستان میں تھا اور اس وقت پاکستان میں ہے ) اس لئے یہ ضروری سمجھا جائے گا کہ شیخ عبد اللہ کو چھپا کر لایا جائے۔چنانچہ جب ریاست کشمیر کے کشم پر پہنچے تو درد صاحب نے شیخ عبد اللہ صاحب کو کار کے بیچ میں لٹادیا اور ان کے اوپر کپڑے ڈال دیئے تاکہ سٹیٹ کے افسران کو پتہ نہ لگے۔اور اس طرح چھپا کر وہ میرے پاس گڑھی حبیب اللہ کے ڈاک بنگلہ پر ان کو لائے۔وہ میری اور شیخ عبد اللہ صاحب کی پہلی ملاقات تھی۔شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے میں نے بڑی لمبی گفتگو کی۔اور میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس شخص سے لیڈری کا کام لیا جا سکتا ہے۔لمبی گفتگو کے بعد میں نے کہا کہ شیخ محمد عبد اللہ ! میں آپ کو کشمیر کی تحریک آزادی کا لیڈر مقرر کرنا چاہتا ہوں شیخ محمد عبد اللہ نے کہا میں لیڈری کے قابل نہیں مجھے تو کچھ آتا نہیں۔جب میں نے اصرار کیا اور انہوں نے انکار کیا۔تو میں نے کہا کہ شیخ محمد عبد اللہ میں آپ کو اصل حقیقت سمجھاتا ہوں۔بات یہ ہے کہ جب ہم برطانوی ہندوستان میں کشمیر کے متعلق آواز اٹھا ئیں گے تو لاز کا انگریز ہم سے یہ پوچھے گا۔آپ لوگ تو ریاست کے باشندے نہیں۔آپ ان کے معالمات میں کیوں دخل دیتے ہیں اس کے دو ہی جواب میں ان کو دے سکتا ہوں یا تو یہ کہ وہ احمدی ہیں۔مگر ان کی اکثریت احمدی نہیں ہے اوریا میں ان کو یہ جواب دے سکتا ہوں کہ میں ان کا وکیل ہوں۔اور وکیل کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ اس ملک کا باشندہ ہو۔پس مجھے کشمیر میں تنظیم کی اس لئے ضرورت ہے کہ جب کبھی میں گورنمنٹ برطانیہ کو مخاطب کروں اور (وہ) مجھ سے پوچھیں کہ تمہارا ان سے کیا واسطہ ہے۔تو میں ان کو دلیری سے کہہ سکوں کہ میں کشمیر اور جموں کے لوگوں کا وکیل ہوں۔پس جب تک جموں و کشمیر سے ایسی آواز نہ اٹھتی رہے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی اور اس کے صدر اس کے نمائندے ہیں اور وکیل ہیں اس وقت تک ہماری کوششیں پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتیں۔شیخ محمد عبد اللہ اتم یہ بتاؤ کہ کیا یہ آواز تم کشمیر سے زور کے ساتھ اٹھو اسکتے ہو یا نہیں ؟ شیخ محمد