تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 456 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 456

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 444 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به پہنچوں جہاں حالات خاصے خراب ہو چکے تھے۔اور سیاست کا مرکز جموں کی بجائے سرینگر بن چکا تھا۔میں شملہ سے راولپنڈی پہنچا یہاں معلوم ہوا کہ سرینگر میں مارشل لاء لگا دیا گیا ہے اور کسی مسلمان کا جس کا سیاست سے دور کا بھی تعلق ہو سرینگر پہنچنا ممکن نہیں " ( اس کے بعد ساغر صاحب نے تفصیل سے ان مشکلات کا ذکر کیا ہے جن سے گزر کردہ سرینگر پہنچے اور وہاں خلیفہ عبد الرحیم صاحب سے جو ان دنوں مسٹرد یکفیلڈ پرائم منسٹر کے پرائیوٹ سیکرٹری تھے۔ملے اور جیسا کہ ہدایت دی گئی تھی ان کے مشورے کے مطابق کام کر کے کشمیر کمیٹی کی ہدایات قلمبند کر کے محبوب شاہ صاحب کے حوالہ کیں تا اسے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا جائے۔اس کے بعد آپ جموں روانہ ہو گئے۔یہ واقعات بیان کرنے کے بعد مسلسل بیان میں لکھتے ہیں۔دو سرے دن جموں پہنچتے ہی پروگرام کے مطابق معمل شروع کر دیا۔یعنی جگہ جگہ میجیے پبلک میشگیں منعقد کی گئیں جن میں دربار کشمیر کی چیرہ دستیوں کی مذمت کی جاتی تھی اور حکومت سے مداخلت کی اپیل کی جاتی تھی۔چھوٹے چھوٹے بچوں کی ایک انجمن بنائی گئی۔جو مختلف قسم کے کتبے اٹھا کر جلوس کی شکل میں نعرے لگاتے ہوئے گلی کوچوں میں سے گزرتے تھے جب پولیس آتی تو تتر بتر ہو جاتے۔اور کسی دوسری گلی میں جا کر اکٹھے ہو جاتے اور وہی نعرے بازی شروع کر دیتے تھے اس طرح پولیس والوں کو خوب ہلکان کیا جاتا تھا۔اس کا نام " انجمن اطفال الاسلام " تھا۔عورتوں کی جماعت بھی انہی خطوط پر بنائی گئی تھی۔لیکن اس کا طریق زیادہ سنجیدہ اور مستور تھا ایک سائیکلو سٹائل کے ذریعہ ہر روز پمفلٹ چھاپ کر تقسیم کئے جاتے اور نمایاں جگہوں پر چسپاں کئے جاتے یہی طریقہ صوبہ جموں کے تمام قصبوں میں اختیار کیا گیا اور دیکھتے دیکھتے چند دنوں کے اندر اندر سرینگر اور جموں جیسے شہروں کی طرح ریاست کے چھوٹے چھوٹے قصبات میں بھی مسلمانوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی اور انقلاب آزادی کے پرچم لہرانے گئے " حضرت خلیفۃ المسیح کے ارشاد پر مسلمانان کشمیر کی تنظیم کے لئے سرینگر جموں ، میر پور وغیرہ میں با قاعدہ دفتر کھول دیئے گئے۔جو تحریک آزادی کے مضبوط اور فعال مراکز ثابت ہوئے چنانچہ پر وفیسر محمد اسحق صاحب قریشی ایم۔اے کا بیان ہے۔" میں جس وقت دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔اس وقت جماعت احمدیہ نے اردو بازار جموں میں تحریک آزادی کے کام کے سلسلہ میں ایک دفتر کھولا ہوا تھا۔جس میں بہت سے کارکن کام کرتے تھے جب حکومت نے مسلمانوں کے مطالبات کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کیا تھا اس سلسلہ میں یہ دفتر مختلف لوگوں کے بیانات اور خیالات قلمبند کرتا تھا میں بھی اس دفتر میں کام کرنے جایا کرتا تھا طالب علموں کو بلا کر ان کے ذریعہ مسودات کے نقول لکھوائے جاتے تھے۔اور آئندہ میدان میں کام کرنے کے لئے تیار کیا جاتا تھا۔اس مقصد کے لئے وہاں لائبریری بھی