تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 21
تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 21 خلافت ثانیہ کا پندر جامعہ احمدیہ کا افتتاح اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی قیمتی نصائح اساتذہ کرام کی فہرست دیتے ہوئے ہم ۷ ۱۹۴ء کے آخر تک پہنچ گئے تھے اب پھر ضروری ابتدائی حالات کی طرف آتے ہیں۔جامعہ احمدیہ کی داغ بیل پڑنے کے بعد جب اس نئی درسگاہ کے ابتدائی انتظامات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۰/ مئی ۱۹۲۸ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس تقریب پر جو تقریر فرمائی وہ الفضل ۱۴- اگست ۱۹۲۸ء میں شائع ہو چکی ہے۔حضور نے تقریر میں اس نئے ادارہ کی غرض وغایت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا: "خد اتعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تا کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو و لتكن منكم امة يدعون الى الخير الخ کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں۔بے شک اس مدرسہ سے نکلنے والے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص ایک ہی کام کا اہل نہیں ہوتا۔انگریزوں میں سے بہت سے لوگ قانون پڑھتے ہیں مگر لاء کالج سے نکل کر سارے کے سارے بیرسٹری کا کام نہیں کرتے بلکہ کئی ایک اور کاروبار کرتے ہیں تو اس مدرسہ سے پڑھ کر نکلنے والے کئی ایسے ہوتے ہیں جو ملازمتیں کرتے ہیں۔مگر یہ اس لئے نہیں بتایا گیا کہ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے نوکریاں کریں بلکہ اصل مقصد یہی ہے کہ مبلغ بنیں اب یہ دوسری کڑی ہے کہ ہم اس مدرسہ کو کالج کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج ایسا ہونا چاہیئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جا ئیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی بعض کو جر منی بعض کو سنسکرت بعض کو فارسی بعض کو روی بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہیئے۔کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے بظا ہر یہ باتیں خواب و خیال نظر آتی ہیں۔مگر ہم اس قسم کی خوابوں کا پورا ہونا اتنی بار دیکھ چکے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو ظاہری باتوں کے پورے ہونے پر جس قدر اعتماد ہو تا ہے اس سے بڑھ کر ہمیں ان خوابوں کے پورے ہونے پر یقین ہے۔ابھی تو ہم اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے ساتھ بھی مبلغین کی کل اس تھی مگر اس میں شبہ نہیں کہ ہر چیز اپنی زمین میں ہی ترقی کرتی ہے جس طرح بڑے درخت کے نیچے چھونے پودے ترقی نہیں کرتے اسی طرح کوئی نئی تجویز دیرینہ انتظام کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی۔اس وجہ سے جامعہ کے لئے ضروری تھا کہ اسے علیحدہ کیا جائے۔اس سے متعلق میں نے ۱۹۲۴ ء میں صدر انجمن احمدیہ کو لکھا تھا کہ کان کی کلاسوں کو علیحدہ کیا جائے۔اور اسے موقعہ دیا جائے کہ اپنے ماحول کے مطابق ترقی کرے۔آج وہ خیال پورا ہو رہا