تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 22
تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 22 ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیاد ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہوگی۔نیز طلباء جامعہ کو ان کی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ : وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں ان کے سامنے عظیم الشان کام اور بہت بڑا مستقبل ہے وہ عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹیں ہیں اور پہلی اینٹوں پر ہی بہت کچھ انحصار ہو تا ہے ایک شاعر نے کہا خشت اول چون نهد معمار کج تا ثریا می رود دیوار سچ اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے تو ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی رہے گی۔جتنی اونچی دیوار کرتے جائیں اتنی ہی زیادہ ٹیڑھی ہوگی گو کالج میں داخل ہونے والے طالب علم ہیں اور نظام کے لحاظ سے ان کی ہستی ما تحت ہستی ہے۔لیکن نتائج کے لحاظ سے اس جامعہ کی کامیابی یا ناکامی میں ان کا بہت بڑا دخل ہے یہ تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے کام ترقی کرتے جائیں گے۔مگر ان طلباء کا ان میں بڑا دخل ہو گا۔اس لئے انہیں چاہیئے کہ اپنے جوش اپنے اعمال اور اپنی قربانیوں سے ایسی بنیاد رکھیں کہ آئندہ جو عمارت تعمیر ہو اس کی دیواریں سیدھی ہوں ان میں کجی نہ ہو ان کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک ہی غایت ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا اعلاء ہو۔۔۔۔اور ان کا یہی موٹو ہونا چاہیئے۔كن ولتكن منكم امة يدعون الى الخير ويامرون بالمعروف وينهون عن المنكر و اولئك هم المفلحون أورو ما كان المئومنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم لعلهم يحذرون میرے نزدیک ان آیتوں کو لکھ کر کالج میں لٹکا دینا چاہیئے۔تاکہ طالب علموں کی توجہ ان کی طرف رہے اور انہیں معلوم رہے کہ ان کا مقصد اور مدعا کیا ہے۔KET جامعہ احمدیہ کا دور اول جامعہ احمدیہ کا ابتدائی دور کئی قسم کی مشکلات میں سے گذرا۔پہلے سال کے شروع میں ہی جامعہ احمدیہ کے اولین استاد اور جماعت مبلغین کے شفیق استاد حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب تشویشناک طور پر بیمار ہو گئے اور پھر اچانک ۲۹/ دسمبر ۱۹۲۸ء کو آپ پر فالج کا حملہ ہوا۔اور بالآخر آپ ۲۳/ جون ۱۹۲۹ء کو اپنے مالک حقیقی جاملے II حضرت حافظ صاحب کے انتقال سے نہ صرف جماعت احمد یہ اپنے ایک جلیل القدر و عظیم المرتبت عالم بے بدل فاضل اجل سے محروم ہو گئی بلکہ جامعہ احمدیہ کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچا۔اس کے علاوہ حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب کی لمبی بیماری نے بھی تعلیم پر ناگوار اثر ڈالا۔اسی