تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 20
تاریخ احمدیت - جلد ۵ 20 خلافت ثانیہ کا پند اولی و درجہ ثانیہ مدرسہ احمدیہ کی مولوی فا مثل کلاس C اور درجہ ثالثه د رابعه (جماعت مبلغین) نئی درسگاہ کی عمارت کے لئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے احاطہ کی وہ کو ٹھی مخصوص کی گئی۔جو گیسٹ ہاؤس کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی۔اور جس میں خلافت ثانیہ کے اوائل تک جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے (سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ قادیان) قیام رکھتے تھے۔جامعہ احمدیہ کے بور ڈر طلباء کا انتظام کسی موزوں عمارت کے نہ ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ ہی میں رہا۔جامعہ احمدیہ کی جماعتوں کے لئے مدرسہ احمدیہ کا وہ سامان جو اس وقت تک عملا مدرسہ کی مولوی فاضل کلاس کے استعمال میں تھا۔جامعہ احمدیہ میں منتقل کر دیا گیا اور دیگر ضروری ابتدائی سامان کے لئے مبلغ ایک سو روپیہ کی منظوری دی گئی۔اور سائز کا باقی بجٹ حصہ رسدی مدرسہ اور جامعہ میں تقسیم کر کے جامعہ احمدیہ کو اس کا دسواں حصہ (رہا کے کی کسر چھوڑ کر) بطور پیشگی حاصل کرنے کا حق دیا گیا۔اس سلسلہ میں سب سے اہم مسئلہ جامعہ احمدیہ کے سٹاف کا تھا۔سو جامعہ احمدیہ کے اساتذہ اس کے پہلے پر نسل حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور پروفیسر حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلال پوری اور حضرت میر ۵۵ محمد اسحاق صاحب مقرر کئے گئے۔جامعہ احمدیہ کے ان اولین قدیم ترین پروفیسروں کے بعد ۱۹۴۷ء یعنی تقسیم ہند تک مندرجہ ذیل اساتذہ وقتا فوقتا اس دینی درسگاہ میں تعلیمی فرائض بجانا تے رہے۔مولوی ارجمند خان صاحب مولوی محمد یار صاحب عارف - حافظ مبارک احمد صاحب حضرت مولوی محمد جی صاحب ہزاروی - EI سردار مصباح الدین صاحب سابق مبلغ انگلستان مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ مولوی فاضل - مولوی علی محمد صاحب اجمیری - صاحبزادہ مولوی سید ابوالحسن صاحب قدسی (خلف الصدق حضرت صاجزادہ مولوی سید عبد اللطیف صاحب شہید ) مولوی غلام احمد صاحب بد و مهدی - شیخ محبوب عالم صاحب خالد - مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب فاضل سنسکرت- حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ایم۔اے۔مرزا احمد شفیع صاحب میولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل لائلپوری۔ماسٹر علی محمد صاحب بی۔اے بی ٹی۔ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے۔مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری - مولوی عبد المنان صاحب عمر - مولوی ظفر محمد صاحب مولوی عطاء الرحمن صاحب طالب (جون |10] - (419M 2