تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 439 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 439

اریخ احمریت - جلد ۵ 427 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یہ من وسال کے ایک گرانڈیل جوان تھے بھر پور جسم بد اسا سر گھنی اور تاؤ دی ہوئی کانوں کی لو سے ہمکنار موچھیں۔تیز چیکدار اور گہری آنکھیں۔گہرا گندمی رنگ اور گرجدار آواز۔ان سب باتوں نے مولانا میں امتیازی رعب کی شان پیدا کر رکھی تھی آپ فطر نا سپاہی تھے اور آپ کا کاروبار چھاؤنیوں سے وابستہ رہنے کے باعث کریلا اور نیم چڑھا ہو گیا تھ مولانا یوپی کی طرف کسی مقام کے رہنے والے اور علمی خاندان سے متعلق تھے آپ کی تعلیم عربی فارسی تحمل از تحمیل ہی رک چکی تھی فوجیوں کے ساتھ کاروبار کی وجہ سے انگریزی نہایت رواں اور فوجیانہ بولتے تھے اردو مادری زبان ہونے کے باعث زیر تصرف تھی راولپنڈی اور پشاور کے طویل قیام کے باعث پنجابی اور پشتو زبان بھی اہل زبان کی طرح بول لیتے تھے کشمیر میں آپ کا رو د۱۹۳۱ء میں پہلی دفعہ ہور چین فوجی افسروں کی معیت میں ہوا خانقاہ معلی میں مسلمانن کشمیر کا پہلا جلسہ تھا جس میں آپ شامل ہوئے جلسہ کے انتقام پر آپ نے مسلمابین کشمیر کی نسبت اپنے تاثرات بیان کئے اردو زبان کسی نے بھی نہ کبھی۔مگر پولیس کی رپورٹ پر دوسرے دن آپ کی گرفتاری عمل میں آگئی۔اس سے قبل آپ حضرت بل میں جمعہ کے دن بھی کوئی تقریر کر چکے تھے " اخبار اصلاح سرینگر ۱۳ جولائی ۱۹۳۶ء) ہفت روزه اصلاح سرینگر ۱۳ / جولائی ۱۹۳۶ء ۸۵ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ میرے پاس متواتر و نود اور تاریں آئیں کہ آپ یہ کام اپنے ہاتھ میں لیں اور ہماری مدد کریں (الفضل ۱۲۴ جون ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ کالم ۲ کشمیر کے حالات "صفحہ ۱۳۸ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) مطبوع اگست ۱۹۳۱ء ۸۷ اخبار "اصلاح " سرینگر ۱۳/ جولائی ۱۹۳۶ء - INSIDE KABHIR صفحہ ۱۳۰- مطبوعہ کشمیره باشنگ کمیٹی سرینگر ۱۹۴۱ء ۸۹ جب گولی چلی تو عبد القدیر خان صاحب کو کسی کارروائی کے بغیر جیل کی ڈیوڑھی سے واپس لے جا کر حوالات میں بند کر دیا گیا۔اور چند روز بعد سرینگر سیشن جج نے ان کو سال کی سخت قید سنادی۔مگر بعد ازاں جلدی انہیں رہا کر دیا گیا۔(الفضل ۶/ اگست ۱۹۳۱ء صفحه ۱۲) 4- "RECOLLECTION- صلی ۱۹۴ (بحواله «شیر کشمیر صفحه ۱۰۵- از جناب کلیم اختر صاحب) اخبار الفضل قادیان نے مسلمانان کشمیر کی قابل تعریف ہمت اور استقلال کے عنوان پر ۴/ اگست ۱۹۳۱ء کو ایک پر زور اداریہ بھی لکھا تھا۔۱۴-۱۳۹ جولائی ۱۹۳۱ء کو شہید ہونے والوں کی ایک نا تمام فهرست اخبار ہمارا کشمیر مظفر آباد ۲۶/ جولائی ۱۹۵۲ء صفحہ ۳۔اور ہفت روزه دار ۱۳/ جولائی ۱۹۶۳ ء میں شائع شدہ ہے۔الفضل ۱۸/ اگست ۱۹۳۱ء صفحه ۹-۱۰ ۹۳ کشمیر کے حالات " ( از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) -۹۴ یہ وفد ڈاکٹر محمد شاہ نواز صاحب کی سرکردگی میں زخمیوں کے علاج کے لئے بھیجا جاتا تجویز ہوا تھا جس کے لئے بذریعہ تار اجازت طلب کی گئی مگر حکومت کشمیر نے اسے داخلہ کی اجازت نہ دی۔(الفضل ۱۳۰ جولائی ۱۹۳۱ء صفحہ کالم ) -۹۵ این مولوی عبد الله صاحب وکیل ولادت ۱۸۹۵ء قریباً ۱۹۴۷ء میں جموں سے ہجرت کے کے سیالکوٹ آگئے اب تک وہیں قیام رکھتے ہیں۔ولادت / فروری ۱۹۰۴ء بمقام جموں۔چوہدری غلام عباس صاحب کی سیاسی جدوجہد میں ان کے والد بزرگوار منشی نواب الدین مرحوم احمد ی کی تربیت اور دعاؤں کا بہت دخل ہے چنانچہ چوہدری صاحب خود ہی فرماتے ہیں ” میرے والد محترم بے حد متشرع اور دین دار تھے۔اور یہ امر واقع ہے کہ میں نے اپنی عمر میں ان کو ہمیشہ معمولاً اور التزاما دو بجے صبح کے لگ بھگ بیدار ہوتے پایا۔تجد نماز پنجگانہ اور روزہ سے سوائے علالت کے انہوں نے کبھی ناغہ نہ کیا۔مجھے ان سے بعض مذہبی عقائد میں اختلاف تھا لیکن میں جو کچھ بھی ہوں اور میں نے جو کچھ بھی اس دنیا میں حاصل کیا سب انکی بدولت ہے یہاں تک کہ میری موجودہ زندگی بھی ان ہی کی مرہون منت ہے ابتداء میں مہاراجہ ہری سنگھ اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف لب کشائی کوئی آسان بات نہ تھی چہ جائے کہ حکومت کے خلاف باغیانہ تحریک کی رہنمائی کی جاتی۔اکثر گھر والے میری سیاسی سرگرمیوں کے مخالف تھے لیکن والد محترم