تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 18
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 18 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال دوستوں سے ایک بات تو یہ کہتا ہوں کہ ہر روز قدم آگے بڑھا ئیں۔اخلاص و محبت بڑھا ئیں اور دوسرے بھائیوں میں بھی پیدا کریں "۔حضرت مولوی ذوالفقار علی خان صاحب رئیس الاحرار مولانا محمد علی جو ہر کی دختر کے نکاح گوہر کا جوش دینی و حرارت ایمانی کی تقریب مئی ۱۹۲۸ء کے دوسرے ہفتہ میں ہوئی جس میں شمولیت کے لئے مولانا جو ہر کے برادر اکبر حضرت خان ذو الفقار علی خاں ایک ہفتہ کی رخصت لے کر قادیان سے دہلی تشریف لے گئے"۔دہلی میں آپ کو تبلیغ اسلام کا ایک موقعہ ملا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ نے اس درجہ جوش دینی اور حرارت ایمانی کا ثبوت دیا کہ مشہور مسلم لیڈر جناب عبد المساجد صاحب دریا بادی مدیر "مصدق" لکھنو نے آپ کی وفات پر " صدق جدید " میں لکھا کہ "مئی ۱۹۲۸ء کا ذکر ہے کہ مولانامحمد علی کی منجملی صاحبزادی کا عقد دہلی میں تھا۔اس تقریب میں یہ بھی آئے ہوئے تھے۔ایک روز دو پسر کی تنہائی میں دو معزز مہمانوں نے مسائل اسلامی پر کچھ طنز و تمسخر شروع کیا (دونوں بیرسٹر تھے اور لامذ ہب نہیں بلکہ اچھے خاصے مسلمان اور ایک صاحب ماشاء اللہ ابھی موجود ہیں) مخاطب " سچ " (سابق صدق) کا ایڈیٹر تھا لیکن قبل اس کے کہ وہ کچھ بھی بول سکے ایک اور صاحب نے جو اس وسیع کرے کے کسی گوشے میں لیٹے ہوئے تھے کڑک کر ایک ایک اعتراض کا جواب دینا شروع کر دیا اور وہ جوابات اتنے کافی بلکہ شانی نکلے کہ مخاطب اصلی کو بولنے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔یہ نصرت اسلام میں تقریر کر ڈالنے والے بھی ذوالفقار علی خان تھے اس جوش دینی و حرارت ایمانی رکھنے والے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نرمی اور رافت ہی کا معاملہ فرمائیں اور اس کی لغزشوں کو سرے سے در گزر فرمائیں۔(صدق جدید نا حنو) CA جامعہ احمدیہ (عربی کالج) کا قیام حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو شروع خلافت سے یہ خیال تھا کہ جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی ضروریات کے لئے مدرسہ احمدیہ کو ترقی دے کر اسے ایک عربی کالج تک پہنچانا ضروری ہے اس مقصد کی تکمیل کے لئے حضور نے 1919ء میں پہلا قدم یہ اٹھایا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ، حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب ، حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب ، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے ، حضرت مولوی محمد دین صاحب ،ماسٹر نواب دین صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب مصری پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس نے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد