تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 17 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 17

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 17 تعالی ہی پھیلاتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہدایت پھیلانے کے لئے آسمان سے فرمھتے نہیں آیا کرتے انسان ہی یہ کام کیا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بدر کی جنگ کے موقعہ پر رسول کریم ﷺ نے یہ دعا کی تھی کہ مسلمان مٹھی بھر ہیں اگر یہ تباہ ہو گئے تو پھر اسلام کا کیا بنے گا پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری کوئی طاقت نہیں ہے مگر خد اتعالیٰ انسانوں سے ہی اپنے دین کی اشاعت کراتا ہے اگر ہم بھی توجہ نہ کریں تو پھر اسلام کی خدمت کرنے والا کوئی نہ ہو گا جہاں کوئی اور بھی کام کرنے والا ہو وہاں کوئی ستی بھی کر سکتا ہے لیکن جہاں ایک ہی کام کرنے والا ہو اس کی سستی کا نتیجہ سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہو تا اس وقت یہ موقعہ نہیں ہے کہ مختلف جماعتیں اسلام کا کام کر رہی ہیں اسلام کی ترقی کا انحصار صرف احمدیہ جماعت پر ہے اور حالات نازک سے نازک تر ہوتے جارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے " آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے "۔ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ مصائب اور آفات آپ کی جماعت کو تباہ نہ کریں گئے مگر اس کے ایک اور معنی بھی ہیں۔آگ کا لفظ مختلف معنی رکھتا ہے آگ مصائب کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے اور محبت کے معنوں میں بھی۔پس اس الہام میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی مصائب ہمارا کچھ نہیں بگار سکتے۔آگ ہمارا کام کر رہی ہے یعنی عشق الہی کی آگ ہماری کمزوریوں کو جلا رہی ہے اور جب دلوں میں عشق الہی کی آگ جل جاتی ہے۔تو پھر اس کی علامات مونہوں سے بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں پس ہماری جماعت کے ہر فرد کے دل میں محبت الہی کا ایسا شعلہ ہو کہ مونہہ سے بھی نکلتا ہو اور ہر احمد ہی اس آگ کو اس طرح بھڑ گائے کہ اس کا چہرہ دیکھ کر لوگ سمجھے جائیں کہ یہ اسلام کا سچا عاشق ہے جو اسلام کے لئے جان بھی دے دے گا۔مگر قدم پیچھے نہ بنائے گا۔میں نے دیکھا ہے کہ پچھلی مجلس مشاورت سے احباب نے ہر رنگ میں ترقی کی ہے اور مالی اور دوسری مشکلات کے متعلق کسی قدر تسلی ہوئی ہے اور اس وجہ سے چند راتیں میں نے بھی آرام سے بسر کی ہیں۔مگر اتنی ترقی کافی نہیں ہے ہمیں اپنے تمام کاموں میں استقلال دکھانا چاہیئے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اب بھی بیدار ہوں اور پچھلی دفعہ جو عہد کیا گیا تھا اسے پھر یاد دلاتا ہوں۔RO جو دوست پچھلے سال نہ آئے تھے وہ آج سے عہد کریں کہ واپس جاکر ان لوگوں کا اخلاص بڑھا ئیں گے جن میں اخلاص ہے۔اور جن میں نہیں ان میں پیدا کریں گے اسلام کی محبت پھیلانے اور اسلام کی اشاعت کرنے میں لگ جائیں اور قرآن کریم کی روشنی جو مٹ رہی ہے اسے قائم کریں میں نے بتایا ہے دوستوں میں پہلے کی نسبت بہت تغیر ہے اور یہ بہت خوشی کی بات ہے مگر ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنا محاسبہ کرتے رہیں۔اور دیکھیں ہر روز ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں پس میں