تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 19
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ ایک سکیم تیار کی۔19 خلافت عثمانیہ کا پندر اس اہم کمیٹی اور اس کی سکیم کا ذکر صد را مجمن احمدیہ کی رپورٹ ۲۰-۱۹۱۹ء کمیٹی کی رپورٹ میں ان الفاظ میں آتا ہے کہ امسال مدرسہ احمدیہ میں بہت بڑا تغیر واقع ہوا ہے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نے جماعت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے اور یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ان ضروریات کو سوائے مدرسہ احمدیہ کے اور کوئی انسٹی ٹیوشن پورا نہیں کر سکتی اس کی طرف خاص توجہ فرمائی اور اس مدرسہ کی موجودہ حالت کو ترقی دینے اور اس کو جماعت کے لئے ایک نہایت کار آمد وجود بنانے کے لئے اس کی پہلی سکیم پر غور کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنادی ( آگے ممبران کمیٹی کے نام دینے کے بعد لکھا ہے۔ناقل ) اور اس کمیٹی کو حکم دیا کہ وہ اس کی سکیم پر پورا غور کرے اور اس میں مناسب تغیر و تبدل کر کے اس کو ایسی لائنوں پر چلائے جن پر چل کر مدرسہ ایسے طالب علم نکال سکے جو صرف ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ تمام بیرونی ممالک ولایت وغیرہ میں بھی تبلیغ کر سکیں اور تعلیم مدرسہ تک ہی محدود نہ رکھی جائے۔بلکہ اس کے ساتھ ایک کالج بھی کھول دیا جائے چنانچہ حضور کی ہدایت کے مطابق اس کمیٹی نے کامل دو ماہ غور کرنے کے بعد ایک سکیم تیار کر کے حضور کی خدمت میں پیش کر دی اور حضور نے اس میں مناسب اصلاح کر کے اسے جاری کرنے کا حکم دے دیا۔اور وہ سکیم اس سال مدرسہ احمدیہ میں جاری کر دی گئی۔لیکن چونکہ اس سکیم اور پرانی سکیم میں بہت فرق تھا۔اگر یہ سارے مدرسہ میں جاری کر دی جاتی تو پہلے طالب علموں کی تعلیم میں بہت نقص دارد ہونے کا اندیشہ تھا۔اس لئے فی الحال یہ صرف پہلی تین جماعتوں میں رائج کی گئی۔اور گویا اب مدرسہ میں دو سکیمیں کام کر رہی ہیں۔پہلی تین جماعتیں نئی سکیم کے مطابق تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور آخری چار جماعتیں پرانی سکیم کے مطابق اور اس کے علاوہ ایک جماعت مدرسہ احمدیہ کے ساتھ اور بھی ہے جو مولوی فاضل کلاس کہلاتی ہے اس کا کورس یونیورسٹی کے کورس کے مطابق ہے۔حضور نے اس سکیم کے مطابق ۱۹۲۴ء میں صدر انجمن احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ وہ مدرسہ کو کالج تک ترقی دینے کے لئے عملی اقدام کرے۔چنانچہ کئی مراحل طے ہونے کے بعد صد را انجمن احمدیہ نے ۱۵ / اپریل ۱۹۲۸ء کو جامعہ احمدیہ کے نام سے ایک مستقل ادارہ کے قیام کا فیصلہ کر دیا جس کے مطابق مدرسہ احمدیہ کی مولوی فاضل کلاس اس عربی کالج کی پہلی دو جماعتیں قرار دے دی گئی۔اور جماعت مبلغین (جس کے واحد انچارج یا پروفیسر حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب ہی تھے )۔دو جماعتوں میں تقسیم کر کے جامعہ کے ساتھ ملحق کردی گئی اس طرح ابتداء میں جامعہ احمدیہ کی چار جماعتیں کھولی گئیں درجہ جامعہ احمدیہ کے انتظام کا فیصلہ ar ۵۰