تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 400
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 396 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۱۶ جون کے تاریخی مضمون کی بازگشت تحریک آزادی میں دلچسپی لینے کے عوامل و / محرکات کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم دوبارہ ۱۶/ جون ۱۹۳۱ء کے مضمون کی طرف آتے ہیں یہ تاریخی مضمون جو گویا جنگ آزادی کا پہلا بگل تھا جب "انقلاب" اور "الفضل" میں شائع ہوا تو اس کی صدائے بازگشت یہ پیدا ہوئی کہ اول تو روزنامہ "سیاست" (لاہور) نے اسکی تائید میں ایک مضمون بعنوان کشمیر کانفرنس کے انعقاد کی تجویز لکھا۔دوسرے مسلمانان ہند کے نامور صوفی لیڈر جناب شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے حضور کو خط لکھا کہ اب دیر نہیں کرنا چاہئے اور جلد کشمیر کانفرنس کی تحریک کر دینا چاہئے۔جنرل سیکرٹری مسلم کشمیری کانفرنس کا مکتوب تیرے سید محسن شاہ صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری مسلم کشمیری کا نفرنس لاہور نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو مندرجہ ذیل مکتوب لکھا جو انقلاب یکم جولائی ۱۹۳۱ء صفحہ ۳ پر بھی شائع ہوا۔مکرمی محتری جناب مرزا صاحب السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ میں نے آپ کا مضمون "ریاست کشمیر و جموں میں مسلمانوں کی حالت اور ایک خاص کشمیری کانفرنس منعقد کرنے کی ضرورت اخبار "انقلاب" مورخہ ۱۶ / جون میں پڑھا۔مجھے آپ کے خیال سے کلی اتفاق ہے اور مسلمانان کشمیر کی حالت زار پر جو تجویز آپ نے تحریر فرمائی ہے وہ نہایت مفید اور قابل عمل ہے میرا خیال تھا کہ آپ مجھے بحیثیت آل انڈیا مسلم کشمیری کا نفرنس یہ تجویز تحریر کریں گے تاکہ میں اسے کانفرنس کی مجلس عاملہ میں پیش کروں مگر مجھے آج کے انقلاب مورخہ ۲۳/ جون ۱۹۳۱ء سے معلوم ہوا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں اخبار کے ذریعہ آپ کی تجویز کے متعلق اپنی رائے تحریر کروں لہذا یہ چند سطور آپ کی خدمت میں بھیجتا ہوں میں کانفرنس کا مجلس عاملہ کا جلسہ آئندہ ۵/ جولائی کو منعقد کروں گا جو فیصلہ ہو گا اس سے آپ کو مطلع کردوں گا مگر میری ذاتی رائے یہ ہے کشمیر کا معاملہ ایسا معاملہ ہے جس میں سب مسلمانوں کا متفقہ طور پر شریک ہونا نہایت مفید ہو گا اور اس کے لئے ایک الگ انجمن قائم کرنی زیادہ مفید ہو گی لاہور کے اہل الرائے اصحاب سے میری اس معاملہ میں گفتگو ہوئی ہے اور یہ سب کی رائے ہے کہ یہ کام ایک الگ جماعت کے سپرد ہو تو اس سے جلد مفید نتیجہ نکلے گا۔اور اس کے لئے بھی عنقریب لاہور میں ایک جلسہ منعقد کیا جائے گا۔جس میں اگر آپ شریک ہوں تو بہت ہی اچھا ہو ورنہ آپ اپنے کسی نمائندے کو بھجوا دیں میں اس جلسے کی اطلاع آپ کو اور دیگر ہر رو اصحاب کو دوں گا۔اور اس جلسے میں مجوزہ کانفرنس کے ابتدائی مراحل طے کئے جائیں گے میں اور تمام مسلمان آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ