تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 401 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 401

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 397 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به نے اس معاملے میں دلی ہمدردی اور دلچسپی کا اظہار فرمایا ہے جس سے یقین کامل ہے کہ بہت جلد مفید عملی نتائج پیدا ہوں گے۔خداوند کریم آپ کو اس نیک کام میں حصہ لینے کے لئے جزا ہائے خیر عطا فرمائے"۔والسلام نیازمند محسن شاہ آنریری جنرل سیکرٹری مسلم کشمیری کا نفرنس - 1 آزادی کشمیر سے متعلق دو سرا مضمون اس رد عمل پر حضور نے ایک اور مضمون رقم فرمایا جو روزنامه انقلاب مورخه ۲۵/ جون ۱۹۳۱ ء اور روزنامہ الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۳۱ء میں شائع ہوا۔حضور نے اس مضمون میں لکھا کہ " آل انڈیا مسلم کشمیری کا نفرنس " جیسے ادارہ کو چاہئے کہ وہ اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دعوت نامہ شائع کرے اور مقام اجتماع کا اعلان کرے لیکن اگر مصلحت کی وجہ سے وہ اس کام کو ہاتھ میں نہ لینا چاہے تو پھر ہم لوگوں میں سے کوئی اس کا محرک ہو سکتا ہے"۔اپنی اس ذاتی رائے کا اظہار کرنے کے بعد حضور نے کشمیر کانفرنس سے متعلق قیمتی مشورے دینے کے بعد تحریر فرمایا :- اب بھی میرا یہی خیال ہے کہ کشمیری کا نفرنس کے سیکرٹری صاحب کو اس کام کے لئے کھڑا ہونا چاہئے مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ وہ کون صاحب ہیں مگر میں امید کرتا ہوں کہ کام کو سہولت سے چلانے کے لئے وہی اس مجلس کے انعقاد کی کوشش کریں گے کیونکہ ہر کام کے لئے بلا ضرورت و مصلحت الگ الگ انجمنوں کا بنانا تفرقہ اور انشقاق پیدا کرتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ اس کام کو کرنا پسند نہ فرماتے ہوں تو میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ اخبار کے ذریعہ سے اس کی اطلاع کردیں۔تاکہ کوئی دوسرا انتظام کیا جائے۔"سیاست" کے مضمون نگار صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ کشمیر کے نمائندوں کا طلب کرنا نا ممکن ہو گا لیکن میرے نزدیک یہ نا ممکن نہیں ، مجھے جو اطلاعات کشمیر سے آرہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے۔کہ کشمیر میں سینکڑوں آدمی اس امر کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔کہ اپنی جان اور مال کو قربان کر کے مسلمانوں کو اس ذلت سے بچائیں جس میں وہ اس وقت مبتلا ہیں اور کشمیر والوں نے ایک انجمن سات آدمیوں کی ایسی بنائی ہے۔جس کے ہاتھ میں سب کام دے دیا گیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ انجمن اپنے میں سے کسی کو یا اپنے حلقہ سے باہر سے کسی شخص کو نمائندہ مقرر کر کے بھیج دے اسی طرح گاؤں کے علاقوں سے بھی نمائندے بلوائے جاسکتے ہیں اگر ریاست کشمیر کی طرف سے روک کا احتمال ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان نمائندوں کا علم بھی کسی کو نہ دیا جائے لیکن اگر بفرض محال ہم کشمیر سے نمائندے طلب نہ بھی کر سکیں۔تو پھر ہم یہ کر سکتے ہیں کہ ایک دو معتبر آدمیوں کو اپنی طرف سے کشمیر بھجوا دیں وہ بہت