تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 396 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 396

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 392 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی طرف سے جونی یہ خبر روزنامہ انقلاب مورخہ ۱۲ جون ۱۹۳۱ء میں شائع ہوئی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی آزادی کشمیر سے متعلق مضامین کا آغاز ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی خداداد فراست و ذہانت سے قطعی طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ آزادی کشمیر کا یہ نہایت سنہری موقعہ ہے اور اس وقت کی خاموشی کشمیریوں کی ابدی غلامی پر منتج ہوگی۔چنانچہ آپ نے انقلاب میں ہی ایک مضمون لکھا۔جو ۱۶/ جون ۱۹۳۱ء کو الفضل میں بھی شائع ہوا۔اس مضمون میں حضور نے تحریر فرمایا :- میں متواتر کئی سال سے کشمیر میں مسلمانوں کی جو حالت ہو رہی ہے اس کا مطالعہ کر رہا ہوں اور لیے مطالعہ اور غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوا ہوں کہ جب تک مسلمان ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے یہ زرخیز خطہ جو نہ صرف زمین کے لحاظ سے زرخیز ہے بلکہ دماغی قابلیتوں سے بھی حیرت انگیز ہے کبھی بھی مسلمانوں کے لئے فائدہ بخش تو کیا آرام دہ ثابت نہیں ہو سکتا۔کشمیر ایک ایسا ملک ہے جسے صنعت و حرفت کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔اس ملک کے مسلمانوں کو ترقی دیگر ہم اپنی صنعتی اور دینی پستی کو دور کر سکتے ہیں۔اس کی آب و ہوا ان شدید تغیرات سے محفوظ ہونے کی وجہ سے جو پنجاب میں پائے جاتے ہیں بارہ مہینے کام کے قابل ہے۔ہندوستان کی انڈسٹریل ترقی میں اس کا موسم بہت حد تک روک ہے لیکن کشمیر اس روک سے آزاد ہے اور پھر وہ ایک وسیع میدان ہے جس میں عظیم الشان کار خانوں کے قائم کرنے کی پوری گنجائش ہے پس تمام مسلمانوں کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ وہ اس ملک کو اس تباہی سے بچانے کی کوشش کریں جس کے سامان بعض لوگ پوری طاقت سے پیدا کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمان اخبارات جیسے انقلاب۔مسلم آؤٹ لک - سیاست اور سن رائز اور اسی طرح نیا اخبار کشمیری مسلمان جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں بہت کچھ حصہ لے رہے ہیں لیکن خالی اخبارات کی کوششیں ایسے معاملات کو پوری طرح کامیاب نہیں کر سکتیں۔ضرورت ہے کہ ریاست کشمیر کو اور گورنمنٹ کو پوری طرح اس بات کا یقین دلایا جائے کہ اس معاملے میں سارے کے سارے مسلمان خواہ وہ بڑے ہوں یا کہ چھوٹے ہوں کشمیر کے مسلمانوں کی تائید اور حمایت پر ہیں اور ان مظالم کو جو وہاں کے مسلمانوں پر جائز رکھے جاتے ہیں کسی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جہاں تک میں سمجھتا ہوں ریاست پر اور گورنمنٹ پر زور ڈالنے کے سامان مفقود نہیں ہیں ہم دونوں طرف زور ڈال سکتے ہیں ضرورت صرف متحدہ کوشش اور عملی جدوجہد کی ہے۔میں نے ان مطالبات کو جو مسلمانان کشمیر کی طرف سے مسٹرو یکفیلڈ کے سامنے پیش ہوئے ہیں