تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 387 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 387

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 383 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ریاست جموں نے پرسوں مسلمانوں کا وفد آغا سید حسین ہائیکورٹ حج کے مکان پر بلایا اور یہ خیال ظاہر کیا کہ مسلمانوں کی طرف سے آپ ایک ریزولیوشن منظور کرا دیں جس میں بینرجی کے خیالات سے اختلاف ظاہر کیا جائے۔مسلمانوں کے ان خود ساختہ لیڈروں نے چائے کی ایک ایک پیالی سے اتنا نشہ حاصل کیا کہ مہاتما گاندھی بھی وائسرائے کی چائے پر اتنے سرشار نہ ہوئے ہونگے۔آپ نے قوم سے استصواب کئے بغیر فرما دیا۔ہمیں دیجئے قلم اور دوات ابھی لکھے دیتے ہیں خد ا بھلا کرے مستری یعقوب علی صاحب قبلہ کا جنہوں نے کہدیا کہ پہلے مسلمانوں سے استصواب ضروری ہے چنانچہ کل انجمن اسلامیہ نے منادی کرادی کہ سرا یلین بینرجی کے خیالات پر اظہار رائے کیا جائے گا مسلم پبلک کو ان کی اس قوم فروشی کی خبر ہوئی تو انجمن مذکور کے خلاف نفرت کا جذبہ پھیل گیا جس پر اول تو جلسہ ملتوی کرنے کی ٹھائی گئی مگر مسلمانوں کے زور دینے پر جلسہ منعقد ہوا اور سرکار کے ان پھوؤں نے جو حکام سے کہہ آئے تھے کہ ہم میں قوت گویائی موجود ہے تمام مجمع کو ہاتھوں پر ڈال لیں گے جلسہ کا افتتاح کر دیا۔حاضری چھ ہزار سے زیادہ تھی قوت گویائی والے بزرگ تو بول ہی نہ سکے۔چند اور لیڈروں نے برجستہ تقریریں کیں مگر مسلمانوں نے صاف کہہ دیا کہ ہمیں انجمن کے موجودہ عہدیدار منظور نہیں کیونکہ تمام کے تمام پریذیڈنٹ اور سیکرٹری پنشن یافتہ ہیں اور مسلمان ان سے اعلائے کلمتہ الحق کی توقع نہیں رکھتے مسلمانوں نے تقاضا شروع کر دیا مسلمانوں کو ۹۰ فیصدی ہوتے ہوئے تین فیصدی نوکریاں بھی نہیں دی جاتیں۔مسلمانوں کا خون بہایا جاتا ہے اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔چند آزاد خیال حضرات نے کہہ دیا کہ مہاراج بہادر کے حکام مسلمانوں سے اس طرح سلوک کرتے ہیں جس طرح فرعون کی حکومت اسرائیلیوں سے کرتی تھی۔کسی نے کہا کہ مسلمانوں کے اتنے بھی حقوق نہیں جتنے گدھوں کے ہوتے ہیں کسی نے کہا انسپکٹر پولیس ایک بھی مسلمان نہیں غرض طرح طرح کی شکایات دہرائی گئیں۔مسلمانوں کی ایک جماعت نے ایک پوسٹر پر جس پر ان کی شکایات مندرج تھی دستخط کرائے اور وہ پبلک جلسہ میں پڑھا گیا تمام مسلمانوں نے اس سے اتفاق کیا اور رجعت پسندوں کو ریزولیوشن منظور تو کیا پیش کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔غرض مسلمانان ریاست جموں نے سرا یلیین بینرجی کے لفظ لفظ سے اتفاق کیا اور مہاراج سے استدعا کی کہ آپ مسلمانوں کی شکایات کا تدارک کرنے کی طرف توجہ فرمائیں " ' دوسرے شمارہ میں نامہ نگار جموں کے حوالہ سے "انقلاب" نے یہ خبر شائع کی :- یہاں کل سے بڑی زبر دست افواہ پھیل رہی ہے کہ حکومت کشمیر اپنے لئے پراپیگنڈا کرانے کی غرض سے اس وقت تک ہیں ہزار روپے خرچ کر چکی ہے اور ایک بڑے سرکاری افسر پچیس ہزار کی