تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 388 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 388

ریت - جلد ۵ 384 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدید رقم لے کر پرسوں سے لاہور گئے ہوئے ہیں تاکہ اخبارات کے منہ بند کئے جائیں۔شہر بھر میں بڑا ہیجان پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔انجمن اسلامیہ نے اپنے جس اجلاس میں وہ رسوائے عالم ریزولیوشن منظور کیا وہ اغراض و مقاصد انجمن کی رو سے بالکل بے ضابطہ اجلاس تھا کیونکہ جلسہ سالانہ کے بعد کوئی اجلاس منعقد نہیں ہو سکتا۔تاوقتیکہ انتخاب عہدیداران نہ ہو۔مزید براں اجلاس مذکورہ کا کورم بھی پورا نہ قا" - - تیسرے شمارہ میں یہ تبصرہ کیا:- " سرا یلین بینرجی کی صدائے حق نے ایک ہی دن میں جو کام کیا وہ اسلامی اخباروں کے پانسو مضامین اور اسلامی انجمنوں کی پانسو قرار دادوں سے بھی نہ ہو سکا۔ایک قابل ، تجربہ کار مد برنے ڈھائی سال تک ریاست کشمیر کے حالات کا امعان نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد جو رائے ظاہر کی ہے اس سے مہاراجہ بہادر حکام ریاست حکومت ہند غرض کوئی بھی تغافل و تجاہل نہیں کر سکتی۔۔۔اگر چہ بعض ہند و عمال ریاست نے چند خوشامد پرست مسلمانوں کو ساتھ ملا کر عامہ مسلمین کی رائے کو دبانے اور سرا یلیین بینرجی کے بیان کی تردید کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن تمام کشمیری مسلمانوں نے اپنی کمزوری اپنی مفلسی اور بیکسی کے باوجود ان کے خلاف شدت سے صدائے احتجاج بلند کی اور ان خوشامد پرستوں کو اسلام کا غدار بتایا جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے مسلمانوں کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔۔۔تمام اسلامی اخبارات اس معاملے میں ہم زبان ہیں "۔اس سلسلہ میں اپریل ر ایلبین کے بیان کی تائید میں جماعت احمدیہ کا جلسہ ۱۹۲۹ء میں مرکز احمدیت قادیان میں بھی ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہو ا جس کی روداد اخبار انقلاب (۲۰/ اپریل ۱۹۲۹ء) نے بایں الفاظ شائع کی۔" قادیان کے گذشتہ ہفتہ معزز کشمیری احباب کا ایک عظیم الشان جلسه زیر صدارت مولوی عبد الاحد صاحب مولوی فاضل منعقد ہوا جس میں مولوی احمد اللہ صاحب متعلم مولوی فاضل مولوی غلام احمد صاحب (کشفی) کارکن صیغه ترقی اسلام خاکسار محی الدین (بانڈی پورہ) مولومی عبد العزیز صاحب ڈار ، خواجہ محمد اسمعیل صاحب (شوپیاں) مولوی عبد الغفار صاحب ڈار ، غلام محی الدین شاہ صاحب تاجر (بانڈی پورہ) کی زبردست تقریریں ہوئیں جلسے میں بالاتفاق رائے پاس ہوئی کہ سر ایلین بینرجی نے مسلمانان کشمیر کی افتادگی بے چارگی کے متعلق جو بیان دیا ہے بالکل صحیح اور آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے موصوف نے جو مفید و قیمتی مشورہ ریاست کو دیا ہے اس لائق ہے کہ