تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 365
ت - جلد ۵ 361 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کشمیر سے افغانستان تک ہندو راج قائم کرنے کی سازش حین صادرایہ پر آپ لیکن سنگھ اور کشمیر کے پنڈتوں کے ناروا و خطرناک عزائم اسی حد تک محدود نہ تھے بلکہ وہ ہندوستان کے دوسرے مہا سبھائیوں اور جن سنگھیوں کے دوش بدوش سارے ہندوستان اور کشمیر میں بھی ہندو راج قائم کرنے کی زیر دست سازش میں مصروف تھے اور یہ سازش جو پہلے اندر ہی اندر رواں دواں تھی ۱۹۲۵ء میں پوری طرح کھل کر سامنے آگئی۔چنانچہ ہندو اخبار "ملاپ " لاہور نے (جو آگے چل کر مسلمانان کشمیر کی تحریک آزادی میں مہاراجہ کشمیر کی تائید اور مسلمانوں کی مخالفت میں پراپیگنڈہ کے لئے وقف ہو گیا تھا) ۱۵/ مئی ۱۹۲۵ء کو ایک مضمون شائع کیا جس میں لکھا کہ۔" ہم بھی ایک نیا گل کھلائیں گے اور اس گل کی مہک کابل سے کلکتہ اور کشمیر سے راس کماری تک پھیل جائے گی۔یہ گل ہندو سنگھٹن اور خصوصاً پنجابی ہندوؤں کا سنگھٹن ہے اس سے ہندو ریاست قائم ہوگی پورن شدھی ہوگی اور افغانستان اور سرحد کی فتح ہو گی یہ سب معجزے اور کرامات آئندہ ظہور میں آئیں گے"۔نیز لکھا۔” جب ہندو سنگھٹن کی طاقت سے سوراجیہ لینے کا وقت قریب آئے گا تو ہماری جو نیتی (پالیسی) مسلمانوں و عیسائیوں کی طرف ہوگی اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔اس وقت باہمی سمجھوتہ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ہندو مہا سبھا صرف اپنے فیصلہ کا اعلان کر دے گی کہ نئی ہندو ریاست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے فرائض اور حقوق کیا ہوں گے۔اور ان کی شدھی کی کیا شرائط ہوں گی"۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ صاحب کے ستمبر ۱۹۲۵ء میں لاولد فوت ہو جانے پر جب ان کے بھتیجے سر ہری سنگھ صاحب بہادر مہاراجہ کشمیر ہوئے تو حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۹۳۱ء میں فرمایا کہ ”ہم سب کو اس بات کی امید تھی۔کہ سر ہری سنگھ بہادر مہاراجہ کشمیر کے گدی نشین ہونے پر ریاست کی حالت اچھی ہو جائے گی لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے بھی بد تر ہو گئی ہے۔۔۔اس وجہ سے کہ ریاست میں ایک ایسا عصر اس وقت غالب ہو رہا ہے جو نہایت ہی متعصب ہے اور آریہ راج کے قائم کرنے کے خیالی پلاؤ پکا رہا ہے۔یہ عصر چونکہ مہاراجہ صاحب بہادر کے گردو پیش رہتا ہے اور ریاست کی بد قسمتی سے اس وقت ریاست کے سیاہ و