تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 364 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 364

جلد ۵ 360 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ "انجمن اسلامیہ" سے زیادہ "مسلم بینگ میز ایسوسی ایشن" نے اس تنظیم کے سرگرم ممبروں میں شدھی کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا۔جناب چوہدری نواب خان صاحب والد ماجد جناب چوہدری غلام عباس صاحب) اور مستری یعقوب علی صاحب جیسے مستعد اور مخلص احمدی بھی شامل تھے۔ایسوسی ایشن کے جلسے انجمن اسلامیہ کے جلسوں کی نسبت زیادہ بارونق اور دلچسپ ہوتے تھے۔اور اس کے سٹیج پر بھی احمدی مبلغین نے تقریریں کیں مثلا ینگ مینز ایسوسی ایشن کے پہلے سالانہ جلسہ پر جناب چوہدری غلام عباس صاحب کی دعوت پر حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب نے بھی تقریر فرمائی۔ย ایسوسی ایشن کا یہ پہلا جلسہ بہت کامیاب رہا۔چنانچہ چوہدری غلام عباس صاحب لکھتے ہیں۔مسلمانوں کے سینوں میں ایک غیر مرئی جوش و ہیجان پیدا ہو گیا۔ان کی مدتوں سے بے حس رگوں میں خون تیزی سے دوڑنے لگا۔جلسہ کے انتقام پر ایسوسی ایشن کی پوزیشن کو چار چاند لگ گئے اور کارکنان ایسوسی ایشن عوام کی توجہ کا مرکز اور ان کے سیاسی مستقبل کی امید بن گئے "۔ان ابتدائی جلسوں کے بعد بھی جماعت احمدیہ کے مرکز قادیان سے آریوں کا رد کرنے اور حقانیت اسلام ثابت کرنے کے لئے بار بار مبلغ جاتے رہے۔مثلاً ۱۹۲۶ء اور ۱۹۲۹ء میں مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری اور فاضل سنسکرت مهاشہ محمد عمر صاحب مولوی فاضل نے انتہائی مخالف ماحول میں جموں اور کوٹلی میں لیکچر دیئے۔۱۹۳۰ء کے قریب جموں اور بھمبر میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے اسلامی انجمنوں کے جلسوں میں تقریریں فرما ئیں۔2 جولائی ۱۹۳۱ء میں ابو البشارت مولوی عبد الغفور صاحب گیانی واحد حسین صاحب ملک عبدالرحمن صاحب خادم گجراتی بی۔اے اور مولوی عبد الاحد صاحب جماعت احمدیہ پونچھ کے سالانہ جلسہ میں شامل ہوئے۔۱۹۳۲ء میں ریاستی کوائف آتش فشاں پہاڑ کی مانند لاوا پھینکنے پر تیار ہو چکے تھے۔آریوں نے سخت اشتعال پھیلا رکھا تھا اور ریاست کا حکمران طبقہ مسلمانوں کو کچل دینے کا تہیہ کر چکا تھا مگران مخدوش حالات کے باوجود قریشی محمد نذیر صاحب فاضل و مهاشہ محمد عمر صاحب فاضل احمدی مبلغ جموں میں پہنچے اور آریوں کے اعتراضات کی دھجیاں اڑا دیں۔ان مرکزی مبلغین احمدیت کے علاوہ مولوی عبد الواحد صاحب مولوی فاضل ناسنور مولوی نظام الدین صاحب، مولوی سید محمد یوسف شاہ صاحب مولوی فاضل اور مولوی محمد حسین صاحب نے جو ریاست میں احمدی مبلغ تھے۔کشمیر اور پونچھ میں فتنہ ارتداد کا مقابلہ کیا۔ان مجموعی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کے فضل و کرم سے ملکانہ قوم کی طرح اہل کشمیر بھی شدھی کے سیلاب کی زد سے بچ گئے۔۱۲۵