تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 366
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ | ۱۲۸ 362 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیه سفید کا مالک بن رہا ہے۔اس لئے مہاراجہ صاحب بہادر جموں و کشمیر بھی یا تو اس عصر کے بڑھے ہوئے نفوذ سے خوف کھا کر یا بوجہ ناواقفیت کے ان کی پالیسی کو نہ سمجھتے ہوئے کسی مخالف آواز کے سننے کے لئے تیار نہیں ہیں "۔کشمیری قوم اپنی فطری صلاحیتوں اور قدرتی استعدادوں کے لحاظ سے نہایت زرخیز دماغ لے کر پیدا ہوئی ہے یہ وہ قوم ہے جس نے حضرت مولانا عبد الکریم سیالکوٹی جیسے " مسلمانوں کے لیڈر" حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ جیسے شیر خدا مولانا جلال الدین شمس جیسے مبلغ و مناظر، خواجہ کمال الدین جیسے وکیل اور مشنری، خواجہ غلام نبی رسید حبیب جیسے صحافی ڈاکٹر علامہ سر محمد اقبال جیسے نامور فلسفی و شاعر نواب سلیم اللہ خان آف ڈھاکہ جیسے محب وطن نواب اعظم یار جنگ اور مولوی چراغ علی جیسے مصنف خلیفہ رجب دین صاحب جیسے منتظم و مدیر خلیفہ عبدالحکیم جیسے صاحب طرز ادیب حکیم اجمل خاں جیسے طبیب حاذق اور شیخ دین محمد جیسے قانون دان پیدا کئے مگر مہاراجہ ہری سنگھ کی ذہنیت کیا تھی اور وہ اپنے پیشروؤں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھنے کے عادی تھے۔اس کی نسبت ایک مورخ رچرڈ ٹمپل کا ایک واقعہ لکھنا ضروری ہے رچرڈ لکھتا ہے کہ ” جب میں نے مہاراجہ ہری سنگھ سے پوچھا وہ کیوں سری نگر شہر کو ایک پاک و صاف شہر بنانے کی کوشش نہیں کرتے تو انہوں نے جواب دیا کہ کشمیری لوگ گندہ رہنا پسند کرتے ہیں اسی طرح جب ایک دفعہ مہاراجہ ہری سنگھ سے پوچھا گیا کہ وہ کشمیری قوم کے نوجوانوں کو اپنی فوج میں بھرتی کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ کشمیری بزدل ہیں اور جب انہیں رنبیر سنگھ کے عہد میں فوج کی تربیت دے کر لڑائی میں جانے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں پولیس کی حفاظت ہونی چاہئے۔لیکن یہ فرضی کہانی آئندہ رونما ہونے والے واقعات نے جھوٹی ثابت کر دی جبکہ فرزندان کشمیر نے آزادی کی آواز بلند کرنے کے بعد اپنی چھاتیوں پر گولیاں کھائیں اور اپنے خون سے جذبہ حریت کی مسلسل آبیاری کی۔بہرحال ڈوگرہ حکومت کے مظالم کشمیری پنڈتوں کی سازش اور مہاراجہ ہری سنگھ صاحب کی ذہنیت کا مطالعہ کرنے کے بعد تحریک آزادی کشمیر کا پس منظر معلوم کرنا چنداں مشکل نہیں۔ہے۔