تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 363
359 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ خصوصاً بکسر والوں پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ دوسرے سرکاری ذرائع سے مسلمانان کشمیر کو شدہ کرنے کا پروگرام بھی بنالیا۔چنانچہ ۱۹۲۳ء میں جب ہندوؤں نے بے علم مسلمان راجپوتوں (مکانہ) 1 کو مرتد کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔تو مہاراجہ کشمیر پرتاب سنگھ صاحب نے اس کی پشت پناہی کی۔جو مہاراجہ اور پنڈت ریاست کشمیر سے بہت دور دوسری حکومت کے علاقوں میں شدھی کا جال بچھانے کے لئے اتنے سرگرم ہوں وہ خود اپنی ریاست و حکومت میں کیا کچھ نہ کر رہے ہوں گے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی رائے میں تو اے - ۱۸۶۱ ء سے کشمیر میں شدھی کی سکیم بنائی گئی تھی لیکن اس سکیم کے نفاذ کا نمایاں زمانہ ۱۹۲۳ء ہی ہے جموں کے بعض اصحاب کا بیان ہے کہ شدھی کے زمانے میں مشہور مہا سبھائی لیڈر پنڈت مدن موہن مالویہ مہاراجہ کشمیر کے پاس پہنچے اور ارتداد (شدھی) کے لئے سب سے پہلے اور ھم پور کا ضلع اور پھر باقی ریاست تجویز کی۔۱۱۸ جموں کے ممتاز سیاسی لیڈر جناب چوہدری غلام عباس صاحب کشمکش " میں لکھتے ہیں کہ اس وقت ریاست کے بعض علاقوں میں مسلمانوں کی حالت بڑی ناگفتہ بہ تھی۔” پہاڑی علاقوں میں اس وقت ایک اجنبی کے لئے ہندو اور مسلمان میں تمیز کرنا بے حد مشکل بات تھی۔ان مسلمانوں کی رسوم وضع قطع اور لباس حتی کہ عام عادات بھی ہندوانہ تھیں۔گھر گھر میں مورتیاں تھیں جن کو یہ مسلمان پوجتے اور ان سے مرادیں مانگتے تھے "۔جموں شہر میں جہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی ینگ مینز ایسوسی ایشن اور انجمن اسلامیہ کے نام سے مسلمانوں کی دو انجمنیں قائم تھیں۔اور سرینگر میں انجمن "نصرت الاسلام"۔" انجمن اسلامیہ " اور انجمن "ہمدرد اسلام " وغیرہ تھیں۔مگر شدھی کے زمانے میں اس فتنہ کی روک تھام میں پر جوش اور نمایاں حصہ صرف جموں کی انجمنوں ( انجمن اسلامیہ " اور " ینگ مینز ایسوسی ایشن") ہی نے لیا۔انہوں نے جماعت احمد یہ قادیان اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے علماء د مبلغین بلوائے اور ہندو دھرم کے خلاف اور اسلام کی حقانیت میں کامیاب لیکچر دلوائے چنانچہ ماہ مارچ ۱۹۲۴ء کے آخری ہفتہ میں انجمن اسلامیہ جموں کے جلسوں میں حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے نہایت کامیاب لیکچر ہوئے۔11' اگلے سال انجمن اسلامیہ جموں کے جلسہ میں حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے شمولیت فرمائی۔حضرت حافظ صاحب کا لیکچر ۲۱ / مارچ ۱۹۲۵ء کی شام کو۔"حقیقت اسلام" کے موضوع پر ہوا۔اور حضرت مولوی نیر صاحب نے ۲۲ / مارچ ۱۹۲۵ء کو "کتاب مبین " کے موضوع پر تقریر فرمائی - 1