تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 362 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 362

تاریخ احمد بیت - جا 358 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کا الزام لگا کر درون کے اندر اندر کشمیر چھوڑ دینے کا حکم دے دیا۔(ملاحظہ ہو اخبار ” سرمور گزٹ ۱۷/ ستمبر ۱۸۹۲ء صفحہ ۲ کالم ۲) حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کے ریاست سے چلے آنے کے بعد مسلمانوں پر یہ حقیقت کھلی کہ ریاست کشمیر میں مسلمانوں کو ملازمتوں سے بر طرف یا ریاست سے نکلوا دینے کی منظم سازش کی جارہی ہے۔چنانچہ راولپنڈی کے مشہور اخبار چودھویں صدی " نے ۲۳ جولائی ۱۸۹۵ء کو مسلمانان کشمیر کی حق تلفی کا اصلی سبب" کے عنوان سے مضمون لکھ کر اس امر کا پہلی بار انکشاف کیا کہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے مطابق مسلمانوں کو ان کے عہدوں اور ملازمتوں سے محروم کیا جارہا ہے۔الله حضرت خلیفہ اول پر ایک انکشاف ضمنا یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت مولانا حکیم نور الدین کے ریاست کشمیر سے واپس آجانے کے ایک عرصہ بعد آپ پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ عجیب انکشاف ہوا کہ کشمیر اور ہمالیہ کے دامن میں آباد مسلم آبادی کا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے جس کا اظہار حضور نے مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب سے بھی فرمایا۔چنانچہ حضرت شاہ صاحب کی روایت کے مطابق حضور نے ارشاد فرمایا۔ساری رات میں جاگتا رہا اس غم و فکر میں کہ مسلمانوں کی نجات کیسے ہو گی۔دجالی فتنہ شدت سے بڑھتا چلا جارہا ہے۔اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی کئی حکومتیں برباد ہو گئی ہیں۔پھر آپ خاموش ہو گئے۔تھوڑے وقفہ کے بعد حسرت بھرے لہجے میں فرمایا۔قرآن مجید میں جو آیا ہے تکار السموات يتفطرن منه و تنشق الارض و تخر الجبال هدا 0 پورا ہو گیا بہت ہی بڑا فتنہ جس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پھر فرمایا خدا کا کلام پر حکمت ہوتا ہے اور اس کے اندر ہی علاج بھی سمجھا دیا جاتا ہے۔یہ پہاڑی سلسلہ ہے آپ نے کوہ ہمالیہ سے شروع کرتے ہوئے بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان کے سب پہاڑی سلسلے گئے اور فرمایا۔ان پہاڑی قوموں کے اندر کوئی جائے اور ان میں زندگی پیدا کرے تو شاید ان میں حرکت پیدا ہو اور مسلمانوں کا بقیہ الباقیہ کسی طرح بچ جائے "۔مہاراجہ کشمیر کی طرف سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کا پروگرام اور اخبار چودھویں صدی " کے احتجاج کا ذکر کیا گیا ہے۔اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس احتجاج کا رد عمل کیا ہوا۔کشمیری پنڈتوں نے مسلمانوں کی زندگی تو پہلے ہی تلخ اور دو بھر بنا رکھی تھی۔اب اس میں اور شدت اختیار کرلی اور