تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 361 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 361

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 357 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه لوگ جو مسلمانوں کے سخت دشمن اور ان پر ظلم و ستم ڈھانے کے خوگر چلے آتے تھے مگر مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب کی عدل پسند طبیعت کی وجہ سے وقتی طور پر ظلم آرائی سے رکے ہوئے تھے۔مہاراجہ پرتاب سنگھ صاحب کے اقتدار سنبھالتے ہی ان کو شہ ملی اور وہ پوری کشادہ دلی سے " لمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینے میں مشغول ہو گئے۔چنانچہ رسالہ " پنجاب ریویو" (مارچ ۱۸۸۷ء) نے اہل کشمیر کی حالت زار کا درد ناک نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا۔"کشمیر کی حالت افریقہ کے وحشیوں کی حالت سے ذرا بھی کم نہیں اور اگر اور بھی سچ پوچھنا چاہتے ہیں تو ان بد نصیب معتوبوں گویا از لی سیاہ بختوں پر تو نہ آج بلکہ ہمیشہ ہی سے آفت رہی ہے"۔دربار جموں و کشمیر ایک ایسا دربار ہے کہ جہاں چھانٹ چھانٹ کے متعصب لوگ بھرتی کئے جاتے ہیں۔کرنل اے ڈیورنڈ اپنی کتاب "میکنگ آف اے فرنیر میں ڈوگرہ مظالم کا ذکر یوں کرتا ہے۔تمام افسر اور سپاہی یا تو ڈوگرہ قوم سے ہیں یا دو سرے ہندوؤں سے کہ جنہیں کشمیریوں سے کسی قسم کی ہمدردی نہیں۔سپاہی مزدوروں سے کتوں کا سا سلوک کرتے اور انہیں اس طرح پیٹتے تھے جیسے کوئی بوجھ اٹھانے والے جانوروں کو پیٹتا ہے "۔ایک غیر ملکی سیاح مسٹرائی ایف نائٹ رکن مہم کرنل ڈیورنڈ نے ۱۸۹۱ء میں کشمیر کے دیہاتی مسلمانوں کی درد ناک حالت کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے۔" جب کشمیر کے بے گاری سرینگر سے گلگت تک سامان رسد لے جانے کے لئے لگائے جاتے ہیں تو ان کی حالت قابل رحم ہوتی ہے۔یہ بیگاری گلگت کی سنگلاخ اور دشوار گزار راہوں پر منوں بوجھ اٹھا کر بڑے صبر کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔اور گلگت ایسے بے برگ و گیاہ اور برفانی خطے میں (کشمیری) سامان رسد پہنچاتے ہیں۔ان میں سے کئی بھوک پیاس اور تھکاوٹ سے چور ہو کر پگڈنڈیوں پر ہی جاں بحق ہو جاتے ہیں۔اور سینکڑوں نیم عریانی کے باعث برفانی سردیوں کی تاب نہ لاکر مرجاتے ہیں۔جب کسی شخص کو اس کے گاؤں میں بیگار کے لئے پکڑا جاتا ہے تو گھروں میں کہرام مچ جاتا ہے اس کے بیوی بچے چیختے اور چلاتے ہیں اور اس بد نصیب انسان سے چمٹ جاتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اب وہ اس کی صورت دوبارہ نہیں دیکھیں گے "۔جہاں حکومت کے افسروں کی طرف سے مسلمانوں پر ایسے ظلم و ستم کئے جاتے ہیں۔وہاں حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب جیسے حامی اسلام و المسلمین اور اظہار حق میں کسی بڑی سے بڑی قوت سے بھی مرعوب نہ ہونے والے مرد خدا کو زیادہ دیر تک کہاں برداشت کیا جا سکتا تھا۔چنانچہ یہی ہوا اور مہاراجہ پرتاب سنگھ صاحب نے پنڈتوں کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے ستمبر ۱۸۹۲ء کو آپ پر "گاؤ کشی"