تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 360
اریخ احمدیت۔جلد ۵ 356 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به بچانے کے لئے ہندوستان کے مختلف مقامات میں پناہ گزین ہو گئے۔مہاراجہ گلاب سنگھ صاحب نے اپنے تارو اعزائم کی تکمیل کے لئے مسلمان نوابوں پر کیا کیا مظالم ڈھائے ؟ اس بارے میں شیخ غلام حیدر چشتی بانی رکن ینگ میز مسلم ایسوسی ایشن جموں لکھتے ہیں۔گلاب سنگھ بے حد سفاک ظالم بے رحم اور حریص راجہ تھا۔اس نے جموں کی حکومت سنبھالتے ہی بھمبر پونچھ ، میر پور راجوری اور کشتواڑ وغیرہ کے مسلمان حکمرانوں کو مکرو فریب سے قابو میں لا کر کسی کو " درگ" میں ڈالا جو کنوؤں کی شکل کا ایک گڑھا ہوتا تھا جس میں دشمن کو ڈالا جاتا تھا) کسی کی آنکھیں نکلوائیں اور کسی کو سامنے کھڑا کر کے کھال اتروادی۔چنانچہ پونچھ کے ایک مسلمان راجے کو گرفتار کر کے گلاب سنگھ کے سامنے لایا گیا۔تو اس نے راجے کی کھال اتارنے کا حکم دیا۔کھال سر کی طرف سے اتارنے میں دماغی صدمے سے آدمی جلد مرجاتا ہے۔اور اسے کم اذیت ہوتی ہے لیکن پاؤں کی طرف سے اتارنے میں آدمی دیر تک زندہ رہتا ہے۔اور مرنے سے پہلے زیادہ دیر تک اذیت اٹھاتا ہے گلاب سنگھ کا ایک بیٹا بھی اس وقت موجود تھا۔جب مظلوم راجے کی کھال ٹانگوں سے اوپر ادھیڑی جا چکی تو اس دردانگیز نظارے کی تاب نہ لاتے ہوئے اس نے منہ ایک طرف پھیر لیا۔گلاب سنگھ نے بیٹے کی گردن پکڑ کر یہ کہتے ہوئے اس کا منہ مظلوم راجے کی طرف پھیر دیا۔کہ اگر یہ بزدلی دکھاؤ گے تو حکومت کیسے کرو گے"۔جب کھال چھاتی تک اتر چکی تو بہادر مسلمان راجہ نے جس کے حواس اس وقت تک بجا تھے پہلے پانی پینے کی اور پھر بیوی بچوں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔لیکن گلاب سنگھ نے اس کی اس خواہش کو مسترد کر دیا جب کھال گردن تک اتر چکی تو راجہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی - مہاراجہ گلاب سنگھ صاحب کے اگست ۱۸۵۷ء میں اس جہان سے رخصت ہو جانے کے بعد راجہ رنبیر سنگھ یا رندھیر سنگھ حکمران ہوئے تو مسلمانوں کو کچھ سکون حاصل ہوا۔مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب ہی کے زمانے میں ۷۷-۱۸۷۶ء کے قریب حاجی الحرمین حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب طبیب شاہی کی حیثیت سے کشمیر تشریف لے گئے۔اور آپ نے عظیم الشان طبی خدمات انجام دیں۔آپ کا وجود باجود نہ صرف کشمیری مسلمانوں کے لئے آیہ رحمت بن گیا۔بلکہ پچاس سالہ معطل کے بعد تبلیغ اسلام کا موقع بھی پیدا ہو گیا۔۱۲ ستمبر ۱۸۸۵ء کو مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب فوت ہو گئے۔اور مہاراجہ پرتاب سنگھ صاحب ان کے جانشین ہوئے۔کہا گیا ہے کہ یہ راجہ جی بڑے کٹر ہندو تھے۔اور کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایسے پر دہت زدہ تھے کہ پنڈتوں سے مشورہ کئے بغیر کوئی فیصلہ ہی نہ کرتے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈت