تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 352
تاریخ احمد ہے 348 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ و السلام بود و نام یوز آصف ہم گرفت۔والعلم عند الله - عمر خود در میں بسر کرد بعد رحلت محله انز مره آسوده و نیز می گویند که بروضه آنحضرت انوار نبوت جلوہ گرمی باشند و راجہ گوپادت شصت سال و دو ماه حکومت نموده درگذشت "۔(ترجمہ) راجہ آٹھ کے معزول ہونے کے بعد اس کا بیٹا راجہ گو پانند گو پادت کا نام اختیار کر کے حکمران ہوا۔اس کے عہد حکومت میں بہت سی عمارات تعمیر ہو گئیں۔کوہ سلیمان کی چوٹی پر ایک شکستہ گنبد تھا۔اپنے وزیروں میں سے ایک شخص سلیمان نامی کو جو پارس سے آیا تھا۔اس کی تعمیر کے لئے مقرر کیا۔ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ وہ ملیچھ ہے اس وقت حضرت یوز آصف بیت المقدس کی جانب سے دادی اقدسن (کشمیر) کی طرف سے مرفوع ہوئے۔اور آپ نے پیغمبری کا دعوی کیا۔شب و روز عبادت باری تعالیٰ میں مشغول رہے۔تقویٰ اور پارسائی میں اعلیٰ درجہ پر پہنچ کر خود کو اہل کشمیر کی طرف پیغمبر مبعوث قرار دیا۔اور دعوت خلائق میں مصروف ہو گئے۔چونکہ خطہ کشمیر کے لوگ آنحضرت (یوز آصف) کے عقیدت مند تھے۔راجہ گو یادت نے ہندوؤں کا اعتراض ان کے سامنے پیش کیا۔اور آنحضرت کے حکم سے سلیمان نے جسے ہندوؤں نے سندیمان کا نام دیا گنبد مذکورہ کی تکمیل کی (۵۴ تھا) اور اس نے گنبد کی سیڑھیوں پر لکھا۔اس وقت یوز آصف نے دعوئی پیغمبری کیا ہے اور دوسری سیڑھی کے پتھر پر یہ عبارت لکھی۔وہ یسوع پیغمبر بنی اسرائیل ہے (ملا نادری کہتے ہیں) ہندوؤں کی ایک کتاب میں میں نے دیکھا ہے کہ آنحضرت بعینہ حضرت عیسی روح اللہ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔اور یوز آصف بھی نام اختیار کر لیا تھا۔والعلم عند اللہ اور آپ نے اپنی عمر یہیں بسر کی اوروفات کے بعد موضع انز مرہ میں دفن ہوئے۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آنحضرت کے روضہ پر انوار نبوت جلوہ گر ہوتے ہیں۔راجہ گو پارت نے ۶۰ سال دو ماہ حکومت کرنے کے بعد انتقال کیا۔