تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 351 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 351

تاریخ احمدیت جلد ۵ 347 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ عیسائی لٹریچر کی شہادت مکتوب اسکندریہ کا ذکر اوپر آچکا ہے اس کے علاوہ بعض مزید شہادتیں بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہیں۔٣۔مسٹر سٹیفن گراہم اپنی کتاب "روسین پلگر مز آف یروشلم" کے صفحہ پر لکھتے ہیں۔غالبا مسیح کی موت (یعنی صلیبی "موت" ناقل) کے بعد کئی سال تک ان کے درمیان یہ عجیب خبر پھیلی رہی کہ وہ زمین پر کسی دور دراز جگہ میں زندہ ہیں اور عنقریب دوبارہ ظاہر ہوں گے۔انیسویں صدی کے عیسائی مصنف مسٹر بروس لکھتے ہیں۔مسیح فی الواقع مرے نہیں تھے۔عارضی بے ہوشی کے بعد وہ پھر ہوش میں آگئے تھے اور کئی مرتبہ اپنے شاگردوں کو زندہ نظر آئے۔پھر وہ اتنا عرصہ زندہ رہے کہ پولوس کو بھی ان کی زیارت نصیب ہوئی اور بالآخر انہوں نے کسی نامعلوم مقام پر وفات پائی۔(اپالو گویٹر مطبوعہ (۶۱۸۹۲ ڈاکٹرایم۔اے (ایک مسیحی مصنف) لکھتے ہیں۔" یہ ہو سکتا ہے کہ بنی اسرائیل کے دسن گمشدہ قبائل کو تبلیغ کر کے مسیح سرینگر (کشمیر) کے دور دراز علاقہ میں فوت ہو گیا ہو۔اور وہ اس قبر میں دفن ہو جو اس کے نام سے مشہور ہے "۔- کپتان سی۔ایم انرک لکھتے ہیں۔” مجھے اپنے قیام کشمیر کے دوران میں وہاں کی قبروں کے متعلق چند عجیب باتیں معلوم ہو ئیں۔ان میں سے ایک قبر کو مسیح ناصری کی قبر کہتے ہیں "۔کشمیر کی قدیم تاریخ میں جو کشمیر کے مشہور مورخ ملا نادری کی تالیف مسلم لٹریچر کی شہادت ہے اور جو ۱۳۷۸ء سے ۱۴۱۶ء تک مکمل ہوئی ہے۔" راجہ گوپانند پسرش بعد از عزلی او بر حکومت رسید - در (عمد حکومت ) او متخانہ ہائے بسیار (تعمیر شدند) بالائے کوہ سلیمان گنبد شکسته بود و برائے تعمیرش یکے از وزرائے خود نامی سلیمان که از پارس آمده بود تعیین نمود۔هند و واں اعتراض کردند که او غیر دین ملیچھ است در یں وقت حضرت یوز آصف از بیت المقدس بجانب وادی اقدس مرفوع شده دعوائے پیغمبری کرد شب و روز عبادت باری تعالی کرد و در تقوی و پارسائی بدرجہ اعلی رسیده خود را بر سالت اہل کشمیر مبعوث (گوارید) و بد عوت خلائق اشتغال نمود زیرا که کثیر مردمان خطه عقیدت مند آنحضرت بودند - راجہ گوپادت اعتراض ہندواں پیش او کرد بحکم آنحضرت سلیمان کہ ہندواں نامش سند یمان دادند تکمیل گنبد مذکوره کرد (سال پنجاه و چهار) د نیز بر نردبان نوشت که در یں وقت یوز آصف دعوئی پیغمبری می کند و بر دیگر سنگ نردبان هم نوشت که ایشان یسوع پیغمبر بنی اسرائیل است و در کتاب هندوان دیده اند که آنحضرت بعینه