تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 9
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 9 یا نیہ کا پندرھوا فروری ۱۹۲۸ء میں حضرت حافظ روشن علی صاحب حافظ روشن علی صاحب کی تبلیغ حق حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب کے فرزند رشید) (پروفیسر) حبیب اللہ خان صاحب کی برات کے ساتھ میرٹھ تشریف لے گئے۔اس سفر کے لئے حضرت خان صاحب ہی نے تحریک فرمائی تھی آپ کا منشا یہ تھا کہ اس موقعہ پر جناب محمد علی صاحب جو ہر شریک ہوں گے حضرت حافظ صاحب کے ذریعہ ان کو تبلیغ کا موقعہ مل سکے گا۔اعلائے کلمہ حق کی خاطر حضرت حافظ صاحب نے یہ بات منظور فرمائی تھی اور آپ کا یہ سفر بہت بابرکت ثابت ہوا۔جناب محمد علی صاحب جو ہر آپ کے تبحر علمی سے بہت متاثر ہوئے۔نیز دوسرے افراد خاندان نے سلسلہ احمدیہ کی عظمت کا اقرار کیا۔0 ۲۵۱ ۱۹۲۸ء میں نظارت تعلیم و تربیت قادیان کے تحت مندرجہ مرکزی اور بیرونی درسگاہیں ذیل مرکزی درسگاہیں قائم تھیں۔مدرسہ احمدیہ قادیان- مبلغین کلاس قادیان ، تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان - مدرسه البنات قادیان- مدرسه خواتین قادیان متفرق کلاس قادیان- درزی خانه قادیان- احمد یہ ہوٹل لاہور - 2 ان آٹھ با قاعدہ درسگاہوں کے علاوہ جن کے اخراجات کی ذمہ داری صدرانجمن احمد یہ قادیان پر تھی۔بعض درسگاہیں مقامی جماعتوں نے اپنے طور پر بھی جاری کر رکھی تھیں۔ان میں دو احمد یہ مڈل سکول تھے ایک گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں اور دو سرا کاٹھ گڑھ ضلع ہوشیار پور میں گھٹیالیاں کا سکول مقامی جماعت نے اخراجات کی مشکلات کے باعث ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ ضلع سیالکوٹ کے سپرد کر دیا تھا۔اور کاٹھ گڑھ کا سکول چوہدری عبد السلام خان صاحب کی محنت ، توجہ اور مساعی سے مالی تنگی کے باوجو د بھی کامیابی سے چل رہا تھا۔اس کے علاوہ سیکھواں ونجواں فیض اللہ چک (ضلع گورداسپور) کتھو والی بھدرک (کشمیر) اجمیر (ہوشیار پور ) سهارنپور وغیرہ میں مردانہ پرائمری سکول اور سیکھواں، کاٹھ گڑھ ، علی پور بنگہ اور سیالکوٹ میں زنانہ مدارس قائم تھے۔موخر الذکر سکول کا قیام لجنہ اماء اللہ سیالکوٹ اور بابو روشن دین صاحب (سیکرٹری تعلیم و تربیت) کا خصوصاً اور میر عبد السلام صاحب بابو قاسم الدین صاحب اور مستری نظام الدین صاحب کی مساعی کا عمومی نتیجہ تھا۔یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ سیالکوٹ شہر انگریزی عہد اقتدار کے زمانہ میں پادریوں کا بھاری مرکز رہا ہے جہاں عیسائیوں نے مسلمان بچوں اور بچیوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لئے