تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 8 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 8

تهر بیت - جلد ۵ 8 خلافت ثانیہ کا پند را صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، حضرت نواب محمد علی خان صاحب - سردار امیر محمد خان صاحب تمندار کوٹ قیصرانی۔جنرل اوصاف علی خان صاحب مالیر کوٹلہ۔کپتان غلام محمد صاحب دوالمیال۔لیفٹینٹ تاج محمد خان صاحب اسماعیلیہ (مردان) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر ممبر لیجسلیٹو کونسل پنجاب، قاضی محمد شفیق صاحب ایم۔اے ایل ایل بی۔چار سدہ چوہدری سلطان احمد صاحب ذیلدار گجرات چوہدری غلام حسین صاحب سفید پوش لائل پور ، حضرت مولوی ذوالفقار علی خان صاحب ناظر اعلیٰ حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب - اس وفد نے احمد کی نقطہ خیال سے سیاسی امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔اور تمام ممبران کمیشن کو سلسلہ کی کتابیں دی گئیں اور سیاسی امور سے قبل سلسلہ کے حالات اختصار اسنائے۔صدر کمیشن نے کہا کہ وہ سلسلہ احمدیہ کی اہمیت کے قائل ہیں اور رائے دہی اور تعاون کے شکر گزار۔وفد نے اپنا میموریل ۵ لاکھ دستخطوں کے ساتھ پیش کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده مسلمانوں کو صحیح طریق عمل اختیار کرنے کی دعوت اللہ تعالیٰ ہمیشہ جماعت کی کامیابی کے ذرائع پر غور و فکر فرماتے رہتے تھے۔اس ضمن میں حضور نے ۱۰ فروری ۱۹۲۸ء کو ایک خطبہ جمعہ دیا جس میں بتایا کہ دوسرے مسلمان قربانیاں بھی کرتے ہیں مگر ان کے اعلیٰ نتائج نہیں نکلتے اس کے مقابل جماعت احمدیہ میں نصرت اور تائید الہی کا عجیب نظارہ نظر آتا ہے جس کی صرف یہی وجہ ہے کہ صحیح راستہ اختیار کئے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔اس خطبہ پر اخبار " تنظیم" (۲۸/ فروری ۱۹۲۸ ء نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا"۔صاحبو! مرزا صاحب کی تقریر کا ایک ایک لفظ صحیح ہے اگر مجھ سے پوچھو تو میں عرض کروں گا کہ اس وقت مسلمانوں میں نیک نیت مجاہد ایثار پیشہ کار گذار اور مقاصد کو سمجھنے والے تو ہزاروں موجود ہیں مگر " طریق کار " مرتب کرنے والے بہت کم ہیں۔ہم جس قدر عمل و خدمت اور ایثار و قربانی کر رہے ہیں اسی قدر اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کی ہے اور ہماری انجمنیں اور اخبار جس قدر تیز دوڑ رہے ہیں اسی قدر قوم اپنے نصب العین سے دور جارہی ہے اس لئے کہ راستہ صحیح نہیں۔احمد یہ جماعت نے ہم سے بہت پیچھے اپنا سفر شروع کیا ہے۔لیکن آج ہم اس جماعت کی گرد کو بھی نہیں پاسکتے دنیا کے ہر گوشہ میں اس جماعت کے نام اور کام کی دھوم ہے ہم بھی کام کے مدعی ہیں لیکن اے غافل مسلمانو ! سوچو کہ ہم نے عملی طور پر کیا کیا ؟ "۔