تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 10 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 10

ت - جلد ۵ 10 ب کا پندرھواں سال شروع ہی سے کئی سکول کھول رکھے تھے۔جماعت احمد یہ سیالکوٹ نے مسلمان بچیوں کو ان کے اثر سے بچانے کے لئے آنریری استانیوں کی خدمات حاصل کر کے ایک گرلز سکول کی بنیاد رکھی۔یہ سکول ابتداء ایک عارضی عمارت میں کھولا گیا۔مگر لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ کی کوشش اور جماعت احمد یہ سیالکوٹ کے تعاون سے احمد یہ مسجد کبوتراں والی کے شمالی جانب مدرسہ کی مستقل عمارت تعمیر کی گئی جو شہر بھر میں مسلمانوں کی پہلی درسگاہ تھی۔۱۹ / فروری ۱۹۲۸ء کو اس درسگاہ کا افتتاح نظارت تعلیم و تربیت قادیان کے نمائندہ خصوصی حضرت الحاج مولوی عبدالرحیم صاحب نیر ( سابق مبلغ انگلستان و افریقہ) نے فرمایا۔۲۹ یہ درسگاہ ترقی کر کے ہائی سکول تک پہنچ گئی اور اب بابو قاسم الدین صاحب (امیر جماعت احمدیہ ضلع سیالکوٹ) کی نگرانی میں چل رہی ہے۔سیالکوٹ کی مسلمان بچیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے میں اس کی کو ششیں نا قابل فراموش ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ایک مکتوب پردہ سے متعلق ایک صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ " تعالی کی خدمت میں ۲۳ فروری ۱۹۲۸ء کو پردہ سے متعلق بذریعہ خط استفسار کیا جس میں حضور نے ایک مفصل مکتوب تحریر فرمایا جس میں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح اسلامی پر دہ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ معتدل مسلک پیش فرمایا کہ : پر دے کا قرآن کریم نے ایک اصل بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت کے لئے پردہ ضروری ہے الا ما ظهر منها العنی سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو) آپ ہی آپ ظاہر ہونے والی موٹی چیزیں تو دو ہیں یعنی قد اور جسم لیکن عقلایہ بات ظاہر ہے کہ عورت کے کام کے لحاظ سے یا وقت کے لحاظ سے جو چیز آپ ہی آپ ظاہر ہو وہ پر دے میں داخل نہیں۔۔چنانچہ اسی حکم کے ماتحت طبیب عورتوں کی نبض دیکھتا ہے بیماری مجبور کرتی ہے کہ اس چیز کو ظاہر کر دیا جائے اگر منہ پر کوئی جلدی بیماری ہے تو طبیب منہ بھی دیکھے گا۔اگر اندرونی بیماری ہے تو زبان دیکھے گا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک جنگ میں ہم پانی پلاتی تھیں۔اور ہماری پنڈلیاں تنگی ہو جاتی تھیں۔اس وقت پنڈلیوں کا ننگا ہونا قرآن کریم کے خلاف نہ تھا بلکہ اس قرآنی حکم کے مطابق تھا۔جنگی ضرورت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ عورتیں کام کرتیں۔اس اصل کے ماتحت اگر کسی گھرانے کے شغل ایسے ہوں کہ عورتوں کو باہر کھیتوں پر یا میدانوں میں کام کرنا پڑے تو ان کے لئے آنکھوں اور ان کے ارد گرد کا علاقہ کھلا ہونا نہایت ضروری ہو گا۔پس الا ما ظهر منھا کے تحت ماتھے سے لے کر منہ تک کا حصہ کھولنا ان کے لئے