تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 295 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 295

تاریخ احمدیت جلد ۵ 291 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال اند ر والد صاحب کا تبادلہ دوسرے علاقے میں کر دیا گیا۔اس واقعے سے اندازہ ہو کہ ہر کچی بات کچھ نہ کچھ قربانی چاہتی ہے۔جوانی کی کو تاہ نظری کے سبب میں نے والدہ صاحبہ کی خدمت میں عرض کیا کہ والد صاحب کو ڈپٹی کمشنر سے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ اس طرح خواہ مخواہ انگریز بالا دست افسر کی ناراضی مول لی۔لیکن آج میں اپنی اس خام خیالی پر ندامت محسوس کرتا ہوں کہ میں نے اس پنج داند از پر کیوں سوچا؟ کیونکہ انہوں نے تو یہ کہہ کر اگلے جہان میں حاکم مطلق اور منصف حقیقی کے سامنے سرخرو ہونے کا ایک سبب پیدا کیا اور یہ مشورہ دیتے ہوئے ذاتی مفاد اور وقتی مصلحتوں کے لئے سچائی اور ایمان کا دامن نہیں چھوڑا۔یہاں انگریز کے اس کردار کو سراہنا بھی ضروری ہے کہ اس اختلاف رائے کے باوجود ایک جگہ سے دوسری جگہ تبادلے ہی کو کافی تنبیہ سمجھا گیا۔اس سے زیادہ اور کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔مارشل لاء جب ختم ہوا تو انگریز سرکار نے اس "لا قانونی دور " کے واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی جس کے صدر لارڈ ہنٹر قرار پائے۔عوام کی طرف سے ممتاز قومی نمائندے گواہ کی حیثیت سے ہنٹر کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔مرزا سلطان احمد صاحب نے جس صاف گوئی ، بے باکی اور اخلاقی جرات کے ساتھ اس کمیٹی کے روبرو گواہی دی اور واقعات کا تجزیہ کیا وہ " ہنٹر کمیٹی " کی رپورٹ میں زریں ورق کی صورت میں محفوظ رہے گا۔مرزا سلطان احمد پر فالج کا حملہ جان لیوا ثابت ہوا۔علاج معالجے کے لئے انہیں لاہور لایا گیا۔راقم الحروف کے ایک بزرگ سید اصغر علی شاہ کے ہاں ان کا قیام رہا۔یہ مکان ہمارے مکان سے ملحق تھا۔میں اکثر مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو تا۔اپنے خطوں کے جوابات وہ مجھ سے لکھواتے۔میرے لئے بڑی مشکل کا سامنا تھا۔مرزا صاحب بیمار ہونے کے باوجو د روانی کے ساتھ خط کی عبارت فر فر بولتے اور میں اپنی بدخطی چھپانے کے لئے آہستہ لکھتا۔میری ست نگاری ان کی زود گوئی کا ساتھ کہاں دے سکتی تھی۔جب میں خط لکھ چکتا تو مرزا صاحب اسے پڑھتے اور میں ان کے تیوروں سے بھانپ لیتا کہ میری تحریر سے وہ مطمئن نہیں ہیں بلکہ کچھ دل گرفتہ ہی ہیں۔میں دل ہی دل میں شرمندہ ہو تا۔مجھے ان کا ایک " جملہ جو انہوں نے اپنے دوست کے خط میں مجھ سے لکھوایا تھا آج تک یاد ہے۔یہ خبط وہ شخص کسی اور سے لکھوانے کا محتاج ہے جو جب بھی قلم اٹھا تا تا تو صفحے کے صفحے بے تکان لکھتا چلا جاتا اور پھر بھی اس کا قلم رکنے کا نام نہ لیتا۔اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔چند دن کے لئے طبیعت بحال بھی ہوئی تو وہ موت کا سنبھالا تھا۔اللہ