تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 6 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 6

تاریخ احمدیت جلد ۵ 6 خلافت عثمانیہ کا بند رھواں سال تبلیغ ہر وقت اور ہر زمانہ میں قیود سے آزاد رہے گی۔ہشتم : زبان کا سوال کسی قوم کی ترقی کے لئے اہم سوال ہو تا ہے پس یہ فیصلہ ہونا چاہیے۔کہ مسلمانوں کو اردو زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی پوری اجازت ہو گی۔اور جن صوبوں میں اردو رائج ہے ان میں اردو زبان قانونی زبان کی حیثیت سے ہمیشہ کے لئے قائم رہے گی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ نقطہ نگاہ رسالہ "مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت کی صورت میں اردو اور انگریزی زبان میں شائع فرما دیا اور اسے وسیع پیمانہ پر پھیلا کر ہندوستان کے ایک سرے سے لے کر دو سرے سرے تک اس تنظیم و کثرت کے ساتھ پہنچادیا کہ مسلمانوں کا کثیر طبقہ جو کانگریس کی تحریک مقاطعہ سے متفق ہو چکا تھا کمیشن سے تعاون کو ضروری سمجھنے لگا۔A اور گو جناب محمد علی جناح بدستور بائیکاٹ کی پالیسی پر دیانتداری سے ڈٹے رہے۔مگر مسلم لیگ میں شامل مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے نے سر شفیع کی قیادت میں اپنی الگ تنظیم قائم کر کے کمیشن سے تعاون کا فیصلہ کر لیا۔اس نئی لیگ کے صدر سر شفیع صاحب بنے اور سیکرٹری ڈاکٹر سر محمد اقبال۔جنہوں نے کمیشن کے بائیکاٹ کی پر زور مخالفت کی۔IT: حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس بر وقت رہنمائی ہی کا نتیجہ تھا کہ ۳/ فروری ۱۹۲۸ء کو سائمن کمیشن ساحل بمبئی پر وارد ہوا تو کانگریس کے احتجاجی مظاہروں اور اس کی کوششوں کے باوجود مسلمانوں نے عموماً اس کمیشن سے تعاون ہی کو ترجیح دی چنانچہ کلکتہ ، دہلی اور بمبئی میں مسلمانوں کی اکثریت ہر تالیوں سے الگ رہی۔شمالی ہندوستان میں جہاں مسلم اکثریت کو بائیکاٹ میں شامل کرنے کے لئے کانگریسی خیال کے علماء مثلاً مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر ”زمیندار " بہت زور لگا رہے تھے "۔"انقلاب" جیسا اخبار پشت پناہی کرنے لگا تھا اور مولانا محمد علی صاحب جو ہر ابو الکلام صاحب آزاد ، ڈاکٹر انصاری صاحب اور لالہ لاجپت رائے جیسے لیڈر صوبہ کا دورہ کر رہے تھے اور بڑی جو شیلی تقریروں سے لوگوں کو بائیکاٹ پر اکسا رہے تھے۔مگر یہاں بھی کانگریسی پروگرام ناکام رہا۔اور دار السلطنت لاہور میں تو اسے عبرتناک ناکامی ہوئی چنانچہ ہندو اخبار "لاپ " لاہور (۵ / فروری ۱۹۲۸ء) نے اقرار کیا کہ صرف چند دکانیں بند تھیں جو انگلیوں پر شمار کی جاسکتی ہیں"۔اور ممکن ہے یہ چند دکانین بھی دکانداروں کی کسی مصروفیت یا بیماری کی وجہ سے ہی بند ہوں۔اخبار " ملاپ " نے اس ناکامی کی وجہ یہ بتائی کہ لوگوں کو اپنے لیڈروں پر اعتماد نہیں رہا۔چنانچہ اس کے الفاظ یہ تھے ”لاہور کے ہندو بھی اور مسلمان بھی ایسے لیڈروں سے بہت بیزار ہو چکے ہیں "۔A جناب عبدالمجید صاحب سالک نے سائمن کمیشن کے خلاف بائیکاٹ کی مہم کا ذکر کرنے کے بعد لکھا "