تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 5 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 5

جلد ۵ خلافت عثمانیہ کا پند میں شامل ہو کر ضائع کر دیں۔ان حالات میں مسلمانوں کا بھی کمیشن کے بائیکاٹ میں شریک ہو نا مسلم مفاد کے سراسر خلاف اور سخت ضرر رساں اور ملک ثابت ہو گا۔لہذا آپ نے تمام مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اس اہم موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حقوق کو بالوضاحت کمیشن کے سامنے پیش کریں اس سلسلہ میں حضور نے مندرجہ ذیل اہم مسائل کی تیاری کا مشورہ دیا۔اول : انگریزوں کے نزدیک اقلیتوں کی حفاظت کا سوال چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔کیونکہ وہاں پارٹیوں کی بنیاد سیاسی خیالات پر ہے جو بدلتے رہتے ہیں مگر ہندوستان کی پارٹیوں کی بنیاد مذ ہب ہے جو بہت کم بدلتا ہے پس انگلستان اور ہندوستان کے فرق کو سمجھا کر کمیشن کے پرانے تعصب کو جسے ہندوؤں کے بیانات نے اور بھی بڑھا دیا ہے۔دور کرنا چاہیئے اور اقلیتوں کے تحفظ حقوق کے متعلق اپنے مطالبات اور دلائل کا ذخیرہ جمع کر لینا چاہیئے۔دوم : اس وقت تک ہندوؤں کو مسلمانوں پر غلبہ ادنیٰ اقوام کی وجہ سے ہے ہندو لوگ چوہڑوں وغیرہ کو حق تو کوئی نہیں دیتے لیکن انہیں ہندو قرار دے کر ان کے بدلہ میں خود اپنے لئے سیاسی حقوق لے لیتے ہیں مسلمانوں کا فرض ہے کہ انہیں ابھار میں ان کی تنظیم میں مدد دیں اور کمیشن کے سامنے ان کے معاملہ کو پیش کرنے میں مدد دیں۔سوم بہندوستان کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کی سخت ضرورت ہے پس اس امر پر زور دینا چاہیئے کہ اس حق کو ہندوستان کے اساسی قانون میں داخل کیا جائے اور جب تک مسلمان قوم بہ حیثیت قوم راضی نہ ہو اس میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔چهارم : پنجاب اور بنگال اور جو آئندہ مسلم اکثریت کے صوبے بنیں ان میں مسلمانوں کو اس قدر حقوق دیئے جائیں کہ ان کی کثرت قلت میں نہ بدل جائے اس وقت بنگال کے چھپن فیصدی مسلمانوں کو چالیس فیصدی حق ملا ہوا ہے اور پنجاب کے پچپن فیصدی کو قریباً پینتالیس فیصدی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان کسی صوبے کو بھی اپنا نہیں کہہ سکتے اور آزاد ترقی کے لئے کوئی بھی راستہ کھلا نجم صوبہ سرحد میں اصلاحی طریق حکومت کے لئے کوشش ہونی چاہیئے۔اور سندھ کے متعلق یہ کوشش ہونی چاہیئے کہ وہ بمبئی سے الگ ایک مستقل صوبہ قرار دیا جائے۔اس امر کو اساسی قانون میں داخل کرنا چاہیئے کہ کوئی دوسری قوم آزادی کے کسی مرتبہ پر بھی کسی ایسے امر کو جو کسی دوسری قوم کی مذہبی آزادی سے تعلق رکھتا ہو محدود نہیں کر سکے گی- خواه براه راست مذہبی اصلاح کے نام سے خواہ تمدنی اور اقتصادی اصلاح کے نام سے