تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 7
تاریخ احمدیت جلد ۵ 7 خلافت کہ بائیکاٹ ہوا بھی اور نہ بھی ہوا جن لوگوں کو اس کمیشن کے سامنے شہادتیں دینی تھیں۔وہ دے بھی آئے اور سنا ہے کہ خود کانگریس نے بھی نہرو رپورٹ کی ایک کاپی خفیہ طور پر کمیشن کو بھیج دی تھی۔تا کہ مبادا کمیشن کانگریس کے نقطہ نگاہ سے بے خبر رہے "۔پنجاب کو نسل کے ممبروں نے بھی کمیشن سے تعاون کیا اور کمیشن سے تعاون کے لئے سات افراد پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی۔کمیٹی کے مسلمان ممبروں میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔جنہوں نے حسب سابق قومی اور ملی مطالبات کو کمیشن تک پہنچانے اور شہادتوں پر جرح کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔چنانچہ لاہور کے انگریزی اخبار ”سول اینڈ ملٹری گزٹ" (۵ / نومبر ۱۹۲۸ء) نے لکھا۔”ہمارا سیاسی نمائندہ جو سائمن کمیشن کے ساتھ ہے ہندوستانی ممبروں کی مختلف النوع شخصیتوں سے بہت ہی متاثر ہوا ہے سر شنکرن نائر و جاہت اور علیحدگی پسند ہیں سر سکندر حیات خان صاحب خوش گفتار اور اپنی طرف مائل کر لینے والے ہیں۔مسٹر راجہ اچھوت اقوام کے نمائندے ہیں۔مسٹر ارون را برٹس ہوشیار اور چوکس ہیں سر ذوالفقار علی خاں صاحب فاضل ہیں اور دل نشین طرز میں گفتگو کرنے والے ہیں شہادت دینے والوں پر جرح کرنے کے باب میں ایک نمایاں شخصیت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ہے آپ داڑھی رکھے ہوئے ہیں۔آپ کوئی دور از کار بات نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ مطلب کی بات کہتے ہیں اور اس لحاظ سے آپ سر آرتھر فروم سے مشابہ ہیں یعنی آپ کی آواز پرشوکت ہے اور نہایت برجستہ تقریر کرنے والے ہیں"۔اگر چہ پنجاب کو نسل کی پہلی سائمن کمیٹی میں ہندوؤں کی ہوشیاری اور بعض مسلمانوں کی خود IA غرضی کے باعث مسلمانوں کو جو صوبہ میں پچپن فی صدی تھے تمہیں فیصدی سے بھی کم نمائندگی ملی جس کے خلاف حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی احتجاجا آواز بلند فرمائی۔تاہم کمیٹی کی اکثریت نے ( جو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کپتان سردار حیات خان - رائے صاحب چوہدری چھوٹو رام اور مسٹر رابرٹس پر مشتمل تھی) آئندہ اصلاحات سے متعلق اس نے سفارش کی کہ کونسل کے تمام ممبر منتخب شدہ ہوں جداگانہ حلقہ ہائے انتخاب قائم رہیں۔اور تمام صوبے اپنے اندرونی معالمات میں خود مختار ہوں۔وغیرہ وغیرہ۔کمیشن کے سامنے دو دفعہ جماعت احمدیہ کا وفد بھی پیش ہوا۔ایک بار گورداسپور میں دوسری بار لاہور میں گورداسپور کے وفد میں ضلع کے بعض معزز ممبروں کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔لاہور کے وفد میں پنجاب کے مختلف حصوں سے ۶ نمائندے شامل ہوئے جن کے نام یہ ہیں۔حضرت