تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 290 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 290

تاریخ احمد بیت - جلدن 286 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال کی گئیں اور جو نظم اس موقعہ پر پڑھی گئی اس کے چند اشعار بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔بڑھیں اور ساتھ دنیا کو بڑھائیں پڑھیں اور ایک عالم کو پڑھائیں الفن دور ہوں ان کی بلائیں پڑیں دشمن ہی اس کی جفائیں نظر آئیں سب ہی تقویٰ کی راہیں الی تیز ہوں ان کی نگاہیں ہوں بحر معرفت کے ت شرما شناور سماء علم کے کے ہوں مهر انور قصر احمدی کے پاسباں ہوں یہ ہر میداں کے یارب پہلواں ہوں یہ پھر ایمان لائیں پھر واپس ترا قرآن لائیں آخر میں حضرت ام المومنین اور حرم محترم حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سب بچوں کو سامنے بٹھا کر خواتین کے تمام مجمع سمیت دعائیں مانگیں اور تمام خواتین میں شیرینی تقسیم کی گئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا انتقال اتی سال کی عمر میں ۲ جولائی ۱۹۳۱ء کو بوقت صبح انتقال فرما گئے۔انا للہ و انا الیه راجعون اسی روز پونے پانچ بجے کے قریب آپ کا جنازہ اٹھایا گیا اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے مجمع سمیت باغ میں آپ کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ مزار حضرت مسیح موعود کے احاطہ میں شرقی جانب دفن کئے گئے۔محترم حضرت مرز اسلطان احمد صاحب نہایت متواضع اور وسیع الاخلاق انسان تھے۔خدمت خلق کے جذبہ سے آپ کا دل معمور تھا۔قوت تحریر اور زور قلم آپ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے ورثہ میں پایا تھا۔پورے ملک ہند کے موقر و بلند پایہ رسائل و اخبارات آپ کے فلسفیانہ اخلاقی و علمی مضامین نهایت قدرو منزلت سے فخریہ شائع کرتے تھے۔اس کے علاوہ آپ کے ۴ کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف بھی تھے - a حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا انتقال ادب اردو کے لئے بہت بڑا نقصان تھا۔جو ادلی میں بہت محسوس کیا گیا۔مثلاً " ادبی دنیا " کے ایڈیٹر اور شمس العلماء احسان اللہ خاں تاجور نجیب آبادی (۱۹۵۱-۱۸۹۴ء) نے اپنے رسالہ میں آپ کی تصویر دے کر یہ نوٹ شائع کیا کہ۔حلقوں ” دنیائے ادب اس ماہ اردو کے نامور بلند نظر اور فاضل ادیب خان بهادر مرز ا سلطان احمد صاحب سے بھی محروم ہو گئی۔آپ نہایت قابل انشاء پرداز تھے۔اردو کا کوئی حصہ ان کی رشحات قلم سے محروم نہ رہا ہو گا۔قانون و عدالت کی اہم مصروفیتوں کے باوجود بھی مضامین لکھنے کے لئے وقت نکال لیتے تھے۔بہت جلد مضمون لکھتے تھے۔عدالت میں ذراسی فرصت ملی تو وہیں ایک مضمون لکھ کر کسی رسالہ کی