تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 282
تاریخ احمدیت جلد ۵ چوتھا باب (فصل سوم) 278 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال قاضی محمد علی صاحب بٹالہ کے واقعہ قتل میں قاضی محمد علی صاحب نوشهروی کا دصال ماخوذ تھے۔آپ کی اپیل ۹ اور ۱۲/ جنوری ۱۹۳۱ء کو ہائیکورٹ لاہور میں جسٹس ایڈ مین اور جسٹس کولڈ سٹریم کے بینچ میں پیش ہوئی۔اپیلانٹ کی طرف سے شیخ دین محمد صاحب ایم اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ممبر پنجاب کو نسل اور شیخ بشیر احمد صاحب بی اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ گوجر انوالہ (حال ٹمپل روڈ لاہور) نے پیروی کی۔بچ نے شن حج کا فیصلہ موت بحال رکھا اور اپیل نا منظور کردی - 2 ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد حکومت پنجاب اور حکومت ہند سے رحم کی اپیل کی گئی مگر گورنر صاحب پنجاب اور وائسرائے ہند دونوں نے یہ اپیل رد کر دی۔جس پر پریوی کو نسل کی طرف رجوع کیا گیا۔پریوی کونسل میں اپیل دائر تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے قاضی محمد علی صاحب کو اپنے قلم سے ۹/ اپریل ۱۹۳۱ء کو مندرجہ ذیل نصیحت آمیز خط تحریر فرمایا۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مکرم قاضی صاحب! السلام عليكم و رحمتہ الله و بركاته ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد گورنمنٹ پنجاب اور حکومت ہند کے پاس رحم کی اپیل کی گئی اور گورنر صاحب اور وائسرائے دونوں نے اس اپیل کو رد کر دیا اور اس کی بڑی وجہ جہاں تک میں سمجھا ہوں اس وقت کے سیاسی حالات ہیں وہ ڈرتے ہیں کہ اگر اس مقدمہ میں دخل دیں تو ان لوگوں کے بارے میں بھی دخل دینا پڑتا ہے۔جو سیاسی شورش میں پھانسی کی سزا پا چکے ہیں۔اب صرف ایک ہی راہ باقی تھی اور وہ پریوی کو نسل میں اپیل تھی بسوا پیل اب دائر ہے اور اس ماہ میں اس کی پیشی ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا اس لئے میں پیشتر اس کے کہ اس اپیل کا فیصلہ ہو آپ کو بعض امور کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں۔(۱) جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں۔میرا یہ یقین ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینا ہمارے طریق کے خلاف ہے اس لئے جس حد تک بھی آپ سے غلطی ہوئی ہے اس کے متعلق آپ کو تو بہ اور استغفار سے کام