تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 280 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 280

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 276 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال انہوں نے مخالفت کی آندھیوں میں اطمینان کے ساتھ کام کر کے اپنی مغنی جواں مردی کو ثابت کر دیا اور یہ بھی کہ مغل ذات کار فرمائی کا خاص سلیقہ رکھتی ہے سیاسی سمجھ بھی رکھتے ہیں اور مذہبی عقل و فہم میں بھی قوی ہیں اور جنگی ہنر بھی جانتے ہیں یعنی دماغی اور قلمی جنگ کے ماہر ہیں "۔or صدر انجمن احمدیہ کے قواعد صد را انجمن احمدیہ کے قواعد و ضوابط کی تشکیل ضوابط جمع کرنے کے لئے حضرت و مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت علامہ میر محمد اسحاق صاحب اور حضرت مرزا محمد شفیع صاحب آڈیٹر (صدر انجمن احمدیہ پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی گئی تھی۔جس نے مئی ۱۹۳۱ء میں مفصل قواعد و ضوابط مرتب کر دیئے۔حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی نے اس مجموعہ کے شائع کرنے کی منظوری ۱۴/ مئی ۱۹۳۶ء کو عطا فرمائی اور جنوری ۱۹۳۸ء میں یہ شائع کر دیا گیا۔صدرانجمن احمدیہ کے قواعد اساسی (Bylaws) کا یہ پہلا ایڈیشن ۲۸۰ صفحات پر مشتمل تھا۔اس پر آخری نظر ثانی حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے فرمائی اور جناب سید محمد اسمعیل صاحب سپرنٹنڈنٹ وفاتر نے اس کی ترقیات و اضافہ جات کے شامل کرنے میں مدد دی - E حضرت امیر المومنین ایده جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو بیدارو ہوشیار ہونے کا ارشاد اللہ تعالٰی نے 10 مئی ۱۹۳۱ء کو ارشاد فرمایا کہ ہر احمدی کو اپنے ماحول میں بیدار ہو جانا چاہتے اور اندرونی و بیرونی دشمنوں پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے۔اور خصوصاً منافقین کو بے نقاب کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔اس ضمن میں یہ بھی ارشاد فرمایا۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو جماعت سے علیحدہ کر دینے سے سلسلہ کو کبھی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ تم اگر ایک کو نکالو تو خدا اس کے بدلے ہزار آدمی سلسلہ میں داخل کرے گا۔آخر سلسلہ کی اشاعت کی ذمہ داری تو مجھ پر ہے۔میں کیوں نہیں ڈرتا۔مجھے کامل یقین ہے کہ اگر میں ایک شخص کو بھی جماعت سے نکالوں تو خدا اس کے بدلے سینکڑوں آدمی مجھے دے گا۔میں دیکھتا ہوں کہ مستریوں کو جماعت سے نکالنے کے بعد جماعت نے اتنی جلدی ترقی کی ہے کہ پچھلے سالوں میں ایسی ترقی نہیں ہوئی"۔منافق کی آپ نے واضح علامت یہ بیان فرمائی کہ۔" جس وقت کوئی شخص نظام سلسلہ کی تحقیر کرے اور علانیہ اعتراض کرے اور جب کہا جائے کہ ذمہ دار افسروں تک یہ بات پہنچاؤ تو وہ کہے کہ مجھے ڈر آتا ہے تو فورا سمجھ جاؤ کہ وہ منافق ہے"۔۵۵