تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 279 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 279

تاریخ ا 275 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال ۵۰ حضور لدھیانہ سے روانہ ہو کر ۱۴/ مئی ۱۹۳۱ء کو دارالامان قادیان میں رونق افروز ہوئے۔اس سفر میں آپ کو اکثر اوقات رات کے تین تین بجے تک مختلف دینی اور ملکی سرگرمیوں میں مصروف رہنا پڑا۔اس سفر میں خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی مدیر منادی " نے بھی آپ سے ملاقات اور حالات حاضرہ پر گفتگو کی۔محترم خواجہ صاحب نے اسی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اخبار ” منادی " میں لکھا۔جماعت احمدیہ کے امام جناب میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے ملا تو واحدی صاحب بھی ساتھ تھے ان کی عمر بیالیس سال کی ہے جب پہلے ملاقات ہوئی تھی تو ان کی ڈاڑھی نہیں نکلی تھی اور یہ اپنے والد کے ساتھ درگاہ (حضرت نظام الدین اولیاء - ناقل) میں آئے تھے۔اب لمبی ڈاڑھی ہے اور کچھ بال بھی سفید ہو گئے ہیں۔مجھ سے بارہ سال چھوٹے ہیں۔آنکھیں غلافی ہیں ہنس کر یعنی خندہ پیشانی سے بات کرتے ہیں۔بات چیت سے معلوم ہوا بہت بھولے اور بہت سیدھے سادھے مسلمان ہیں۔موجودہ زمانہ کی چالاکی و ہوشیاری نہیں معلوم ہوتی۔بلکہ بعض باتوں سے تو ایسا معلوم ہو تا تھا کہ ایک معصوم بچہ گفتگو کر رہا ہے۔مجھ پر اس سادگی کا بہت اچھا اثر ہوا اور میرے دل میں ان کی عزت پیدا ہوئی۔گفتگو موجودہ حالات پر تھی۔وہ جداگانہ انتخاب کے حامی ہیں دلائل میں کوئی گہرائی نہ تھی"۔یہ تو خواجہ صاحب کا وہ تاثر تھا۔جس کا ذکر انہوں نے ۱۹۳۱ ء کی سرسری ملاقات کے بعد لکھا تھا اس کے بعد جلد ہی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا اور حضور کی صدارت میں ان کو تحریک آزادی کشمیر میں خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی تو انہیں حضور کی شخصیت کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا اور وہ اپنے گزشتہ نظریہ کو بدلنے پر مجبور ہو گئے چنانچہ انہوں نے ۱۹۳۳ء میں حضور کی قلمی تصویر کھینچتے ہوئے لکھا۔میرزا محمود احمد در از قد در از ریش گندمی رنگ ، بڑی بڑی آنکھیں ، عمر چالیس سے زیادہ ذات مغل، پیشہ امامت اور مسیح موعود کی خلافت اور تقریر و تحریر کے ذریعہ قادیانی جماعت کی پیشوائی۔پنجاب کے قصبہ قادیان میں رہتے ہیں۔ان کے والد نے دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہیں اور حضرت عیسی بھی ہیں اور شری کرشن بھی ہیں۔اب یہ اپنے والد کے قائم مقام اور خلیفے ہیں۔آواز بلند اور مضبوط ہے۔عقل دور اندیش اور ہمہ گیر ہے۔کئی بیویوں کے شوہر اور کئی بچوں کے باپ اور کثیر تعداد انسانوں کے رہنما ہیں۔اکثر بیمار رہتے ہیں مگر بیماریاں ان کی عملی مستعدی میں رخنہ نہیں ڈال سکتیں۔