تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 269 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 269

تاریخ احمدیت جلد ۵ 265 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال طرف جارہی ہے اور اس سے اردو کی ترقی کی رو کا اندازہ ہو سکے گا۔دوسرے علمی تحقیق بھی ہو جائے گی اور پڑھنے والوں کی طبائع فیصلہ کر سکیں گی کہ اس بارہ میں اردو کے حق میں کون سی بات مفید ہے آیا تحقیق کی پیروی کرنی چاہئے یا غلط الفاظ کی تصدیق کہ یہ دونوں باتیں اپنے اپنے موقع پر زبان کی ترقی کے لئے ضروری ہوتی ہیں۔اس طرح جس لفظ کے متعلق بحث ہو اگر سنسکرت یا ہندی بھاشا اس کا ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اور اگر عربی فارسی ماخذ ہو تو اس کے علماء کو اس پر روشنی ڈالنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔اس طرح اور بہت سی تقسیمیں کی جاسکتی ہیں، جو اس کلپ کو زیادہ دلچسپ بنانے کا باعث ہو سکتی ہیں کلب کا کام فیصلہ کرنا ہو بلکہ ہر پہلو کو روشنی میں لانا ہو۔اس طرح جدید اصطلاحات کی ضرورتوں کو کلب کے صفحات میں شائع کیا جائے اور بحث کی طرح اس طریق پر نہ ڈالی جائے کہ خالص عربی یا خالص سنسکرت اصطلاحات لے لی جائیں بلکہ تحریک یہ کی جائے کہ وہ خیال جس کے ادا کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔اس کے متعلق کلب کے ممبر پہلے یہ بحث کریں کہ اس خیال کا کسی اردو لفظ سے تعلق ہے۔پھر یہ دیکھا جائے کہ وہ لفظ کس زبان کا ہے۔اور آیا اس لفظ سے جدید اصطلاح کا بنانا آسان ہو گا۔اگر عام رائے اس کی تائید میں ہو تو پھر اس زبان کے ماہروں سے درخواست کی جائے کہ وہ اس کے متعلق اپنا خیال ظاہر کریں کیونکہ جس زبان کا لفظ ہو اس کے ماہر اس کے صحیح مشتقات پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ممکن ہے یہ خیال کیا جائے کہ اردو رسائل کے ادارے تو پہلے بوجھوں تلے دبے پڑے ہیں وہ اتنی پیچیدہ سکیم پر کس طرح عمل کر سکتے ہیں لیکن اول تو یہ سکیم عمل میں اس قدر پیچیدہ اور توجہ طلب نہ ہوگی۔جس قدر کاغذ پر نظر آتی ہے۔دوم اس قسم کے کلب جیسا کہ یورپ کا تجربہ ہے۔ہمیشہ رسائل و اخبارات کی دلچپسی اور خریداری بڑھانے کا موجب ہوتے ہیں اس لئے جو رسالہ اس کام کو شروع کرے گا وہ میرے نزدیک مالی پہلو سے فائدہ میں رہے گا۔تیسرے یہ بھی ضروری ہے کہ فورا اس ساری سکیم پر عمل کیا جائے ہو سکتا ہے کہ کلب جاری کر کے صفحات مقرر کئے بغیر اور اس طرح مضامین تقسیم کئے بغیر جس طرح میں نے بیان کیا ہے کام شروع کر دیا جائے پھر جوں جوں ادارہ اور کلب کے ممبروں کو مشق ہوتی جائے کام کو اصول کے ماتحت لایا جائے۔تھوڑی سی ہمت کی ضرورت ہے اور بس۔ادبی دنیا کے لئے اور اگر کوئی اور رسالہ اس تحریک پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ضرورت ہو تو میں اس بحث کو واضح کرنے کے لئے اور اس تحریک سے لوگوں میں دلچسپی پیدا کرنے کے لئے بشرط فرصت اور مضامین بھی لکھ سکتا ہوں"۔(صفحہ ۱۸۶-۱۸۸)