تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 270 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 270

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 266 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال جناب تاجور نے حضور کے مضمون کے ساتھ ایک ادارتی نوٹ دیا۔جس میں آپ کی اردو نوازی اور ادبی خدمات کو زبر دست خراج تحسین ادا کرتے ہوئے لکھا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ کی توجہات بیکراں کا میں سپاس گزار ہوں کہ وہ ادبی دنیا کی مشکلات میں ہماری عملی امداد فرماتے ہیں میں نے ان کی جناب میں امداد کی نہ کوئی درخواست کی تھی۔نہ مجھے احمدی ہونے کا شرف حاصل ہے اور نہ ادبی دنیا کوئی مذہبی پرچہ ہے۔مگر حضرت مرزا صاحب اپنی عزیز مصروفیتوں میں سے علم و ادب اور علم و ادب کے خدمتگزاروں پر توجہ فرمائی کے لئے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔ملکی زبان و ادب سے جناب موصوف کا یہ اعتنا ان علماء کے لئے قابل توجہ ہے۔جو اردو ادب کی خدمت کو تضیع اوقات سمجھتے ہیں " - اگلے نمبر میں مزید لکھا۔پچھلے نمبر میں حضرت امام جماعت احمد یہ قادیان کی توجہ بیکراں کا حال آپ نے پڑھ لیا ہو گا۔امام جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے خلف الرشید اور ان کے خلیفہ ہیں۔مرزا صاحب مرحوم کی تصانیف اردو ادب کا ایک ذخیرہ بیکراں ہیں الولد ستر لابیہ کے مطابق ان کے نامور فرزند کے دل میں بھی اردو زبان کے لئے ایک لگن اور اردو کے خدمت گزاروں سے ایک لگاؤ موجود -"< اس مضمون میں حضور نے ادبی رسالوں کے سامنے ایک سکیم بھی رکھی تھی۔جسے ادبی حلقوں میں پسند کیا گیا۔چنانچہ سید عبد القدوس صاحب ہاشمی ندوی ایم۔اے مدیر رسالہ "قدیم " ( گیا جنوبی ہند) نے ۹/ اپریل ۱۹۲۱ء کو حضور کی خدمت میں لکھا کہ میں نے رسالہ ”ادبی دنیا میں شائع شدہ آپ کی سکیم کئی بار پڑھی اور مجھے یہ بہت پسند آئی ہے میں جناب کی سکیم بروئے کار لانا چاہتا ہوں۔اور میں انشاء اللہ ابتدائی دقتیں بھی برداشت کر لوں گا۔میں حضور کا بہت شکر گزار ہوں گا اگر اس بارے میں گرانقدر مشورہ سے سرفراز فرمایا جائے۔۲۵/ مارچ ۱۹۳۱ء کو ہندوؤں نے کانپور میں فرقہ وارانہ مسلمانان کانپور پر ہولناک مظالم نیار کر کے سلمانان کانپور پر ہولناک مظالم ڈھائے نہ فساد بوڑھوں کے قتل سے رکے نہ بچوں کے قتل سے مجھجکے۔عورتوں کی چھاتیاں کاٹ ڈالیں۔مکانات جلا دیئے دکانیں لوٹ لیں۔اور مساجد منہدم کر دیں۔سفاکی اور بے رحمی کی انتہا یہ تھی کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کی تباہی بربادی ہلاکت اور خوں ریزی پر مسرت و شادمانی کا اظہار کیا۔چنانچہ لاہور کے ہندو اخبار "کیسری " نے لکھا۔" اس وقت تک عام طور پر اس قسم کے فسادات میں یہ ہو تا تھا کہ ہندو پٹتے