تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 266 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 266

تاریخ احمدیت جلد ۵ 262 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال نہیں کہ اہل سنسکرت اردو کو اپنا بنانے کو تیار نہیں۔بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے صرف اپنا ہی بنائے رکھنے پر مصر ہیں اور عربی فارسی والوں کے سایہ سے اس نو نہال کو دور رکھنا چاہتے ہیں اور یہی حال ان کا بھی ہے۔(۴) ہمارا علمی طبقہ غیر زبانوں میں سوچ کا عادی ہو گیا ہے۔اور اسی وجہ سے اس کی تحقیق و تفتیش سے اردو نفع نہیں اٹھا سکتی۔(۵) ٹائپ نہ ہونے کے سبب آنکھوں کو اس کے حروف سے وہ موانست نہیں پیدا ہوتی۔جو ٹائپ پر چھپنے والی زبانوں کے حروف سے ہو جاتی ہے۔اور اس وجہ سے لوگوں میں شوق تعلیم سرعت سے ترقی نہیں کر سکا۔اور کتابوں کی اشاعت وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی انسان بارہ تیرہ قسم کی ٹائیوں کا عادی تو ہو سکتا ہے لیکن ہزاروں قسم کا نہیں۔اور اردو زبان کے جتنے کاتب ہیں گویا اتنے ہی ٹائپ ہیں۔جس کی وجہ سے طبیعتوں پر ایک غیر محسوس بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم کا ذوق کم ہو جاتا ہے۔ان مشکلات کی وجہ سے اردو کی ترقی کے رستہ میں دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ مشکلات حائل ہیں۔مگر میرے نزدیک وہ ایسی نہیں کہ دور نہ کی جاسکیں۔اب تک نقص یہی رہا ہے کہ مرض کی تشخیص نہیں کی گئی۔اور اس کی وجہ سے لازماً علاج بھی صحیح نہیں ہوا اگر اردو عمر میں اپنی بہنوں سے چھوٹی تھی تو اس کے لئے اس قسم کی غذا کا بھی انتظام ہونا چاہئے تھا اور اگر وہ شاہی گود سے محروم تھی۔تو کیوں نہ اسے جمہوریت کی گود میں ڈال دیا گیا۔جس کی حفاظت شاہی حفاظت سے کسی صورت میں کم نہیں کہ اصل بادشاہت تو اسی کی ہے۔اگر اس کی تربیت کے متعلق اختلاف تھا تو بجائے یہ صورت حالات پیدا کرنے کے کہ جس کا بس چلا وہ اسے اپنے گھر لے گیا۔وہی کیوں نہ کیا گیا جو حضرت محمد ( ا ) نے اس وقت کیا تھا جب خانہ کعبہ کی تعمیر جدید کے موقع پر حجر اسود کو اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھنے کے سوال پر مختلف قریش خاندان میں جھگڑا پیدا ہوا تھا۔اور انہوں نے ایک چادر بچھادی اور اس پر حجر اسود اپنے ہاتھ سے رکھ کر سب قوموں کے سرداروں سے کہا کہ وہ اس چادر کے کونے پکڑلیں۔اور اس طرح سب کے سب اس کے اٹھانے میں برابر کے شریک ہو جائیں۔اسی طرح اگر اردو، سنسکرت اور عربی کی مشترک تربیت میں دے دی جاتی تو یہ جھگڑا ختم ہو سکتا تھا۔ٹائپ کا سوال مختلف قسم کا سوال ہے لیکن اگر مذکورہ بالا باتوں کی طرف توجہ ہوتی تو بہت سے لوگ اسے حل کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے۔اور الحمد للہ کہ اس وقت حیدر آباد میں بہت سے ارباب بصیرت اس کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔میری ان معروضات کا مطلب یہ ہے کہ اردو کی ترقی کے لئے ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ بجائے ایک محدود جماعت کی دلچسپی کا مرکز بننے کے جمہور کو اس سے دلچسپی پیدا ہو۔خالص علمی رسائل