تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 267
تاریخ احمد میمت - جلد ۵ 263 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال صرف منتخب اشخاص کی توجہ منعطف کراسکتے ہیں اور زبانیں چند آدمیوں سے نہیں بنتیں خواہ وہ بہت اونچے پایہ کے کیوں نہ ہوں۔قاعدہ یہ ہے کہ زبان عوام الناس بناتے ہیں۔اور اصطلاحیں علماء - اردو بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔پس اگر ہم اردو کی ترقی کے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔تو اس کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ادبی رسالوں میں اس کے علمی پہلوؤں پر بحثیں ہوں۔ماکہ صرف پیش آنے والی مشکلات کے علاج ہی کا سامان نہ ہو۔بلکہ عوام الناس بھی ان تحقیقات سے واقف ہوتے جائیں اس وقت خدا تعالٰی کے فضل سے کئی اردو رسائل کامیابی سے چل رہے ہیں۔اگر ان رسائل میں چند صفحات مستقل طور پر اس بات کے لئے وقف ہو جائیں کہ ان میں اردو زبان کی لغت یا قواعد یا اصطلاحوں وغیرہ پر بخشیں ہوا کریں تو یقیناً تھوڑے عرصہ میں وہ کام ہو سکتا ہے جو بڑی بڑی انجمنیں نہیں کر سکتیں۔اور بڑا فائدہ یہ ہو تا کہ جو نئی نئی اخترا میں ہوں گی یا الفاظ کے استعمال یا قواعد زبان کے متعلق جو پہلو زیادہ وزنی معلوم ہو گا عام لوگ بھی اس کو قبول کریں گے کیونکہ دلچسپ اردو رسائل میں چھپنے کی وجہ سے وہ سب مضامین ان کی نظروں سے بھی گزرتے رہیں گے۔ہاں یہ مد نظر رہے کہ مضمون ایسے رنگ میں ہو کہ سب لوگ اسے سمجھ سکیں۔اس قسم کے مضامین کی اشاعت کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ہمارے ہندو بھائی بھی ان بحثوں میں حصہ لے سکیں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ بغیر ان کی مدد کے ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔کیونکہ اردو میں بہت سے لفظ سنسکرت اور ہندی بھاشا کے ہیں اور ان کی اصلاح یا ان میں ترقی بغیر ہندوؤں کی مدد کے نہیں ہو سکتی۔ان کی شمولیت کے بغیر یا تو وہ حصہ زبان کا نامکمل رہ جائے گا۔یا اسے بالکل ترک کر کے اس کی جگہ عربی الفاظ اور اصطلاحیں داخل کرنی پڑیں گی۔اور یہ دونوں باتیں سخت مضر ہیں اردو کی ترقی کے راستہ میں روک پیدا کرنے والی ہوں گی۔اس تمہید کے بعد میں ایڈیٹر صاحب ادبی دنیا اور دوسرے ادبی رسائل سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ان باتوں میں مجھ سے متفق ہوں تو اپنے رسائل میں ایک مستقل باب اس غرض کے لئے کھول دیں۔لیکن انہیں ان مشکلات کا بھی اندازہ کر لینا چاہئے جو اس کام میں پیش آئیں گی۔مثلا یہ کہ جو سوالات اٹھائے جائیں گے انہیں حل کون کرے گا بالکل ممکن ہے کہ جواب دینے والے ایسے لوگ ہوں جن کا کلام مستند نہ ہو یا جن کے جواب تسلی بخش نہ ہوں یا کوئی شخص جواب کی طرف توجہ ہی نہ کرے۔اگر صرف رسالہ کے ادارہ نے جواب دیئے تو پھر اول تو اصل مطلب فوت ہو جائے گا دوم ممکن ہے کہ اس سے وہ اثر پیدا نہ ہو سکے۔جو اصل مقصود ہے۔لہذا اس مشکل اور اس قسم کی دوسری مشکلات کے حل کے لئے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ جو رسالہ اس تحریک پر عمل کرنا چاہے اس میں ایک ادبی کلب قائم کر دی جائے ادارہ کی طرف سے متعدد بار تحریک کر کے رسالہ کے خریداروں کے