تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 246 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 246

تاریخ احمدیت جلده 242 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال قاہرہ سے اخبار ”اسلامی دنیا کا اجراء اس سال جناب شیخ محمود احمد صاحب عمرفانی نے قاہرہ میں آنریری مبلغ کے فرائض انجام دینے کے علاوہ اسلامی دنیا کے نام سے ایک اخبار جاری کیا مسلمانوں کا باہمی تعارف اور انہیں ان کے مصائب ملی سے آگاہ کر کے اتحاد کی دعوت اس اخبار کی پالیسی تھی۔اس کے دو ایڈیشن نکلتے تھے ایک اردو میں دوسرا عربی میں۔10 یہ اخبار مصور تھا اور اردو دنیا میں اسلامی دنیا کی خبریں نہایت شرح و بسط سے شائع ہوتی تھیں۔افسوس ہے کہ بعض ناگزیر مجبوریوں نے یہ اخبار زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہنے دیا۔اور اس کی اشاعت بند ہو گئی اور جناب عرفانی صاحب قاہرہ سے قادیان آگئے۔احمدی مشن ایک حیدر آبادی سیاح کی نظر میں میرزا سلیم بیگ صاحب سیاح بلاد اسلامیہ حیدر آباد دکن اس زمانہ میں سیاحت کر رہے تھے میرزا صاحب کو مصر اور دوسرے احمدی مشنوں کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں دوسری مرتبہ ۱۹۳۰ء میں قاہرہ جانے کا اتفاق ہوا اور یہ میری خوش نصیبی تھی کہ عرفانی صاحب موجود تھے۔اور ان کا مشن نہایت کامیابی سے اپنے کام میں لگا ہوا تھا۔۔۔اور مجھے مشن کی کارگزاری پر مشن کے رسوخ پر مبلغ کے خلوص پر غور کرنے کا بہت زیادہ موقع ملا۔میں ان تاثرات کو لئے ہوئے فلسطین، شام، استنبول اور برلن وغیرہ گیا جہاں مجھے جماعت احمدیہ کی تنظیم اور کوششوں کا ثبوت ملتا گیا مجھے حقیقتاً نهایت صدق دل سے اس کا اعتراف ہے کہ میں نے ہر جگہ جماعت احمدیہ کے مبلغوں کی کوششوں کے نقوش دیکھے ہر جگہ اسلامی روایات کے ساتھ تنظیم دیکھی ہر جگہ اس جماعت میں خلوص اور نیک نیتی پائی جماعت احمدیہ میں سب سے بڑی خوبی اتحاد عمل اور امام جماعت احمدیہ کے احکام کی پابندی ہے اس کے اراکین کہیں اور کسی حال میں شعار اسلام اور احکام اسلام کو نظر انداز نہیں کرتے۔اور نہ اپنی اصل غرض سے اور فرض سے انجان ہوتے ہیں۔تقریروں، تحریروں یا ملاقاتوں میں ان کا نقطہ نظر موجود ہوتا ہے۔اور وہ اشارہ کنا تہ اپنا کام کئے جاتے ہیں محنت برداشت کرتے ہیں غیر مانوس اور غیر مشرب لوگوں میں رسوخ پیدا کر کے اپنے فرائض کی تکمیل کرتے ہیں۔سیٹھ ابو بکر صاحب سماٹری کی طرف سے الوداعی تقریب سیٹھ ابوبکر صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ سماٹرا جو ۱۹ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو مولوی رحمت علی صاحب مبلغ سماٹرا کے ہمراہ آئے 1 جنوری ۱۹۳۰ء کو کاٹرا روانہ ہوئے اور ۳۰ جنوری ۱۹۳۰ء کو پاڑانگ پہنچے روانگی سے ایک دن قبل انہوں نے قصر خلافت میں ایک سو اصحاب کو چائے کی دعوت دی جس میں سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح نے بھی شرکت