تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 247 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 247

تاریخ احمدیت جلد ۵ 243 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال فرمائی۔سیٹھ صاحب نے ملائی زبان میں تقریر کی قادیان اور خلافت کی روحانی برکات اور احمدیوں کی اخوت اسلامی کا ذکر کرتے ہوئے ان پر بار بار رقت طاری ہو جاتی اور آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔سیٹھ صاحب کی تقریر کے بعد مولوی رحمت علی صاحب نے اس کا ترجمہ کیا۔پھر حضرت امیرالمومنین نے بھی خطاب فرمایا اور بتایا کہ سیٹھ صاحب نے گو اجنبی زبان میں تقریر کی مگر ان کی حالت اس قدر موثر تھی کہ بے اختیار دل کھنچا جاتا تھا چنانچہ فرمایا :- گو مولوی رحمت علی صاحب نے ان کی تقریر کا ترجمہ کر دیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں اس ترجمہ سے بہت زیادہ قیمتی تھی وہ آواز وہ لہجہ اور وہ تاثر جو ابو بکر صاحب کے چہرہ سے ظاہر ہو رہا تھا اور جو یادگار کے طور پر قائم رہیں گے اور ہم کہہ سکتے ہیں ہمارے ایمان میں ان کی وجہ سے اسی طرح زیادتی ہوئی ہے جس طرح ان کے ایمان میں قادیان آنے کی وجہ سے ہوئی ہے"۔آخر میں فرمایا :- " میں اپنے کل جانے والے بھائی کے لئے دعا کرتا ہوں اور انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ہماری خواہش کوشش اور دعا ان کے ساتھ ہو گی"۔ہوئی۔اس کے بعد سارے مجمع نے حضور ایدہ اللہ تعالے کے ساتھ دعا کی اور یہ مبارک تقریب ختم IFA | (1) مباحثہ گجرات (مابین ملک عبدالرحمن اندرون ملک کے مشہور مباحثات صاحب خادم و پنڈت شانتی سروپ سابق محمد علی) تاریخ مناظره ۳ جنوری ۱۹۳۰ء پنڈت صاحب نے اس موضوع پر کہ میں نے اسلام کیوں چھوڑا۔ایک لیکچر دیا تھا اس کے بعد یہ مباحثہ ہوا۔جس میں ان کے ایسے تمام تر اعتراضات کے جوابات دیئے گئے جن کی بناء پر انہوں نے اسلام کو چھوڑ دینا ظاہر کیا تھا مگر وہ آخر بحث تک کسی ایک جواب کو بھی رد نہ کر سکے۔۲- مباحثہ میرٹھ (مابین مولانا ابو العطاء صاحب و آریہ سماجی پنڈت صاحب) تاریخ مناظره ۸-۹ فروری ۱۹۳۰ ء اور موضوع تاریخ تھا۔-- مباحثه حیدر آباد دکن: (مابین مولانا ابو العطاء صاحب و پنڈت دھرم بھکشو صاحب آرید سماجی تاریخ مناظره ۲۰-۲۱-۲۲ مارچ ۱۹۳۰ء موضوع بحث عالمگیر مذہب اور تاریخ 1 - مباحثه مدرسه چٹھہ ضلع گوجر انوالہ (مابین حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی و مولوی فضل علی صاحب لکھنوی و مولوی غلام احمد صاحب بد و طهوی و مولوی فضل علی صاحب لکھنوی) تاریخ