تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 221
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 217 خلافت ثانیہ کا سترھواں -۱۴ آنریبل پیٹرسن سی۔ایس۔آئی سی آئی - ای: "کتاب ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل کے ار سال کا بہت بہت شکریہ مجھے ابھی تک اس کے ختم کرنے کی فرصت نہیں ملی امید ہے کہ چند دنوں میں ختم کرلوں گا لیکن جس قدر میں نے پڑھا ہے اس سے ضرور اس قدر ظاہر ہو تا ہے کہ یہ تصنیف موجودہ گتھی کے سلجھانے کے لئے ایک دلچسپ اور قابل قدر کوشش ہے مسلمانوں کا نقطہ نظر اس میں بہت وضاحت سے پیش کیا گیا ہے امید ہے کہ میں آپ سے جلد ملوں گا"۔لارڈ ایلم: ”میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے وہ کتاب ارسال کی جس میں سائن رپورٹ کے متعلق مسلمانوں کی رائے درج ہے میں اس بات کی اہمیت کو خوب سمجھتا ہوں کہ سائمن رپورٹ کو خالی الذہن ہو کر پڑھنا بہت ضروری ہے اور اسے ناحق ہدف ملامت بنانا یا غیر معقول مطالبات پیش کرنا درست نہیں اس لئے مجھے اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ مجھے اس کے متعلق ہندوستان کے ایک ذمہ دار طبقہ کی رائے پڑھنے کا موقع ملا ہے"۔-10 -17 لارڈ سٹڈ نیم :۔میں اس بات کا بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مہربانی فرما کر مجھے جماعت احمدیہ کے خیالات سے جو ہز ہولی نس نے بڑی خوبی سے بیان فرمائے ہیں آگاہ ہونے کا موقع دیا ہے میں نے دیکھا کہ ہنر ہولی نس اس خیال سے متفق ہیں کہ ہندوستان ابھی درجہ نو آبادیات کے لائق نہیں۔اور یہ کہ بہت سے دوسرے مبصرین کی طرح ہز ہولی نس بھی اس خیال کے ہیں کہ انگریزی Democracy کے نمونہ پر ہندوستان کی حکومت ہونی چاہئے مگر شاید انہیں یہ پتہ نہیں کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پریذیڈنٹ اپنے وزراء خود چنا ہے اور یہ وزراء اس کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں تاہم ملک کی کانگریس کے سامنے فیڈرل نظام پر عمل درآمد کرنے میں بعض خاص دقتیں ہیں۔اضلاع متحدہ امریکہ کو چار سال کی جنگ اور دس لاکھ آدمیوں کی جانوں کی قربانی کے بعد یہ درجہ ملا تھا۔فی الحال جیسا کہ سائن کمیشن کی رائے ہے ہندوستان فیڈرل حکومت کے قابل نہیں ہوا۔کبھی ہندوستان کے سے حالات میں کسی ملک میں فیڈرل حکومت قائم نہیں ہوئی۔فیڈریشنیں قدرتی طور پر خود بخود بن جایا کرتی ہیں جب لوگ ان کے لئے تیار ہوں۔ہندوستان کو جو بہت کافی حد تک حکومت خود اختیاری دی جاچکی ہے اس پر جو کچھ بغیر کسی کے خطرہ کے متزاد کیا جا سکے اس میں دریغ نہیں ہونا چاہئے لیکن میرے خیال میں سب سے اہم معاملہ پبلک کی بہبود کا ہے"۔برطانیہ کا مشہور ترین اخبار ٹائمز آف لنڈن مورخہ ۲۰ نومبر ۱۹۳۰ء کے نمبر میں فیڈرل آئیڈیل کے عنوان کے ماتحت ایک نوٹ کے دوران میں لکھتا ہے کہ :-