تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 222
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 218 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ”ہندوستان کے مسئلہ کے متعلق ایک اور ممتاز تصنیف (مرزا بشیر الدین محمود احمد ) خلیفته ام امام جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہوئی ہے"۔۱۷ ایل ایم ایمری۔مشہور ممبر کنز رو نیو پارٹی :- ” میں نے یہ کتاب بڑی دلچسپی سے پڑھی ہے اور میں اس روح کو جس کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی ہے اور نیز اس محققانہ قابلیت کو جس کے ساتھ ان سیاسی مسائل کو حل کیا گیا ہے نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں"۔انگلستان کے سیاستدانوں کی آراء درج کرنے کے بعد ہندوستان کے مسلم زعماء اور اسلامی پریس کے تبصرے درج کئے جاتے ہیں :- ا سر مرز امحمد اسماعیل بیگ صاحب دیوان ریاست میسور " سر مرزا آپ کی کتاب پا کر بہت ممنون ہیں اور اسے بہت دلچسپی سے پڑھیں گے علی الخصوص اس وجہ سے کہ وہ آپ کی جماعت کے امام سے ذاتی واقفیت رکھتے ہیں۔آپ کا صادق آئی۔ایم ایس سیکرٹری۔۲- جناب اے۔ایچ غزنوی آف بنگال:- "کتاب : ندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل " کے لئے مسٹر اے۔ایچ غزنوی مولوی فرزند علی صاحب کے بہت ممنون ہیں انہوں نے اس کتاب کو بہت دلچسپ پایا ہے"۔۔ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب آف علی گڑھ : ” میں نے جناب کی کتاب نہایت دلچسپی سے پڑھی میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کی یورپ میں بہت اشاعت فرمائیں ہر ایک ممبر پارلیمنٹ کو ایک ایک نقل ضرور بھیج دی جائے اور انگلستان کے ہر مدیر اخبار کو بھی ایک ایک نسخہ ارسال فرمایا جائے اس کتاب کی ہندوستان کی نسبت انگلستان میں زیادہ اشاعت کی ضرورت ہے جناب نے اسلام کی ایک اہم خدمت سرانجام دی ہے "۔۴۔سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون صاحب ایم ایل اے کراچی:۔”میری رائے میں سیاست کے باب میں جس قدر کتابیں ہندوستان میں لکھی گئی ہیں ان میں کتاب ”ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل" بہترین تصانیف میں سے ہے "۔۵- علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال لاہور - تبصرہ کے چند مقامات کا میں نے مطالعہ کیا ہے نہایت عمدہ اور جامع ہے"۔- اخبار انقلاب لاہور (مورخہ ۱۶ نومبر ۱۹۳۰ء) جناب مرزا صاحب نے اس تبصرہ کے ذریعہ سے مسلمانوں کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے یہ بڑی بڑی اسلامی جماعتوں کا کام تھا جو مرزا صاحب نے انجام دیا"۔