تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 216 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 216

212 خلافت ثانیہ کا ستر ھو لگے تو اس تحریک کی پھر ضرورت محسوس ہوئی چنانچہ حضور نے ۸ اگست ۱۹۳۰ء کو احمدیوں سے ارشاد فرمایا کہ وہ اس طرح عملی طور پر مسلمانوں کے مصائب میں ان کے شریک ہوں کہ وہ محسوس کریں کہ یہ مصیبت احمدیوں پر آئی ہے اس طرح ان کا نمونہ دیکھ کر دو سرے مسلمانوں کے دلوں میں بھی اپنے بھائیوں کے لئے غیرت اور بیداری پیدا ہو جائے اور وہ بھی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ڈھاکہ کے مسلمانوں کی امداد کے لئے لفٹنٹ خواجہ حبیب اللہ صاحب نواب ڈھاکہ کی صدارت میں ایک مسلم ریلیف کمیٹی قائم ہوئی جسے حضور نے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا اور دو سو روپیہ مظلوموں کی امداد کے لئے ارسال فرمایا۔LA ۳ اکتوبر ۱۹۳۰ء کو حضرت امیرالمومنین ایده شعار اسلامی کی پابندی کا تاکیدی ارشاد اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے شعار اسلامی (داڑھی) کی پابندی کی طرف پر زور توجہ دلائی چنانچہ فرمایا:- " احباب کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف جارہی ہے اور ہم کہتے ہیں ہم اس طرف چلیں گے جس طرف محمد رسول اللہ ﷺ لے جانا چاہتے ہیں اس سے دنیا پر کتنا رعب پڑے گا دنیا رنگارنگ کی دلچسپیوں اور ترغیبات سے اپنی طرف کھینچ رہی ہو مگر ہم میں سے ہر ایک یہی کہے کہ میں (اس) راستہ پر جاؤں گا جو محمد رسول اللہ اللی کا تجویز کردہ ہے تو لازماً دنیا کہے گی کہ محمد رسول اللہ الیہ کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے متبعین اس کے گرویدہ اور جانثار ہیں۔لیکن جو شخص فائدے گن کر مانتا ہے وہ دراصل مانتا نہیں مانتا وہی ہے جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہا ہوں وہ خدا تعالے کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کو مد نظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکم یا نیم حکم سے داڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو داڑھی رکھنی چاہئے مگر یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے۔اس لئے اس حالت والے چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو داڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئیے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہوں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کر دیا جائے اسے کوئی صحیح الدماغ انسان جبر نہیں کہہ سکتا۔۔۔اس کا نام جبر نہیں بلکہ نظام کی پابندی ہے اور نظام کی پابندی جبر نہیں ہو تا بلکہ اس کے اندر بہت بڑے بڑے فوائد ہیں اور اس کے بغیر دنیا میں گزارہ ہی نہیں ہو سکتا"۔۔