تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 211 بہود کا خیال رہا ہے چنانچہ اس سال ریاست رامپور نے حضرت مولوی ذوالفقار علی خان صاحب ناظر اعلیٰ کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے سلسلہ کی ضرورت کے باوجود انہیں جانے کی اجازت دے دی۔اور ۱۰ اگست ۱۹۳۰ء کو ان کی الوداعی دعوت میں فرمایا :- مسلمان ریاستوں کی ہستی یاد گار ہے اس اسلامی شان و شوکت کی جو ہندوستان میں قائم تھی اور یاد گار ہے اس زمانہ کی جب مسلمانوں کو خدا نے ہندوستان کی حکومت دی تھی۔اسی طرح ہر ہندو ریاست یادگار ہے مسلمانوں کی غلط پالیسی اختیار کرنے کی ہر مسلمان ریاست کی ہستی یاد دلاتی ہے کہ تمہیں خدا نے اس ملک کی حکومت دی تھی اور یہ بھی قابل قدر چیز ہے مگر افسوس کہ یہ آثار بھی مٹ رہے ہیں۔گو اسلامی ریاستیں اسلامی شان و شوکت کی قائم مقام نہیں مگر اسلامی حکومت کی یادگار ضرور ہیں اور مسلمانوں کو بتاتی ہیں کہ یہ ملک تمہارا اور تمہارے باپ دادوں کا تھا اور اس کے جو نشان ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ ہمارے اندر زندگی اور تازگی پیدا کرنے کا ذریعہ میں پس میں جہاں تک سمجھتا ہوں اسلامی ریاستوں کے مٹنے سے وہ تعلقات جو مسلمانوں کو زمانہ ماضی سے ہیں کمزور ہو جائیں گے اس لئے مجھے ہمیشہ اسلامی ریاستوں کی اصلاح اور ترقی کا خیال رہتا ہے اور اگر کسی ریاست میں کسی احمدی کے جانے کا موقع ہو تو خیال آتا ہے شاید اسی کے ذریعہ اس ریاست کی حفاظت کا کوئی سامان پیدا ہو جائے۔یا شاید یہی اس کی نجات کا ذریعہ بن جائے۔اسی وجہ سے باوجود اس کے کہ میں ریاست کی ملازمت کو زیادہ اچھا نہیں سمجھتا۔خیال آتا ہے کہ احمدی وہاں جائیں اور کام کریں شاید خد اتعالیٰ ان کے ذریعہ ان ریاستوں کی اصلاح کر دے۔اور والیان ریاست جن کے دل اس درد سے خالی ہیں جو قومی درد ہوتا ہے وہ بھی درد محسوس کرنے لگیں۔اور شاید انہیں خیال آئے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے اس کی پوری طرح حفاظت کریں اس لئے نہیں کہ اپنے نفسوں پر خرچ کریں یا اپنے بال بچوں پر خرچ کریں۔بلکہ اس لئے کہ اسلام کے لئے مفید ثابت ہو مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کے کام آئے ان کی بہتری اور بھلائی کا ذریعہ بنے اس لئے میں نے خان صاحب کو جانے کی اجازت دی ہے۔ڈھاکہ اور ضلع حصار کے مسلمانوں پر حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۹۲۷ء کے فسادات لاہور کو دیکھ کر مسلمانوں کو تحریک اتحاد مظالم اور احمدیوں کو عملی امداد کی ہدایت کی دعوت دی تھی جس کا مسلمانوں پر پر گہرا اثر ہوا تھا مگر اس کے بعد بعض لوگوں نے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی اور بالآخر اس تحریک کو بہت ضعف پہنچا۔۱۹۳۰ء کے وسط میں ڈھاکہ اور حصار کے مسلمان ہندوؤں کے تختہ مشق بنائے جانے