تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 214 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 214

خلافت ثانیہ کا سترھوار اریخ احمدیت جلد ۵ 210 قدر کام کر دکھا ئیں کہ جو کمی مقابلتاً ہم میں پیدا ہوئی تھی وہ دور ہو جائے۔اور مسلمان اپنی شایان شان حیثیت سے ملک کی حکومت میں حصہ لیں۔میں سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو بشارت دیتا ہوں کہ ہماری قومی زندگی نے اپنا رنگ بدلا ہے اور آنے والے دو تین مہینوں میں ہندوستان دیکھ لے گا کہ کس سرعت کے ساتھ وہ اپنی تنظیم کرتے ہیں۔اور اپنے گھر کو سنبھالتے ہیں۔جنگ اور ہنگامہ آرائی کے لئے ان کو کھڑا کرنا بہت آسان کام ہے۔مہاتما گاندھی نے جو کام دس برس میں کیا مسلمان اس سے دگنا کام دس مہینے میں کر دیں گے مگر ٹھنڈے تعمیری کاموں میں ذرا دل کم لگتا ہے اس لئے بہت دنوں کی سستی اور کاہلی کے بعد اس نے کروٹ بدلی ہے اب مسلمان آمادہ عمل ہیں۔ایک منٹ کے اندر ایک چھوٹی ی کمیٹی بنائی گئی کہ وہ تخمینہ کرے کہ معمولی مصارف کے لئے کس قدر روپے کی فوری ضرورت ہے مشکل سے پانچ منٹ صرف کئے گئے ہوں گے کہ مصارف کا اندازہ کر کے پچاس ہزار کی رقم مقرر کردی گئی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب امام جماعت احمدیہ کا خاص طور پر تذکرہ کروں کہ علاوہ مفید مشوروں اور امداد کے اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے دو ہزار روپے کا وعدہ فرمایا۔اور سات سو روپے اسی وقت مولانا شفیع داؤدی سیکرٹری آل انڈیا مسلم کانفرنس کے خالی خزانے میں داخل چونکہ قادیان سلسلہ احمدیہ کا قادیان میں درس و تدریس سے متعلق ایک اعلان مرکز ہے اس لئے وعظ و تدریس سے متعلق یہاں بہت کچھ احتیاط کی ضرورت تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے اپنے زمانہ خلافت میں یہ اعلان کرایا تھا کہ مساجد وغیرہ میں عام مرکزی مقامات پر کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر وعظ نہ کرے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک سے یہ طریق چلا آتا تھا کہ قادیان میں کوئی عام درس بغیر اجازت نہیں ہو تا تھا۔اسی طریق کے مطابق حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہم جولائی ۱۹۳۰ء کو اعلان فرمایا کہ کوئی شخص اجتماعی جگہوں جیسے مساجد ، مدارس ، دفاتر ، اور مہمانخانہ وغیرہ میں پبلک درس نہ دے۔کیونکہ ایسی جگہوں پر جو درس دیا جائے یا وعظ کیا جائے سلسلہ پر اسکی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور ایسی ذمہ داری اجازت کی شرط لگانے کے بغیر نہیں اٹھائی جاسکتی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو مسلمان ریاستوں کی اصلاح و ترقی کا خیال ابتدا ہی سے مسلمان ریاستوں کی ترقی و