تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 213 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 213

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 209 خلافت ثانیہ کاسترھواں سال کے اعماق تفلسف کو ظاہر کرنے سے گریز کرتے تھے اور الفاظ کے پیچ و تاب میں مطالب کو پنہاں رکھنے کی کوشش کراتے تھے مگر حضرت مرزا محمود صاحب نے ریزولیوشن کے حق میں چند منٹ کے لئے جو تقریر کی وہ مدروح کی انتہائی راستبازی اور راستگوئی کی دلیل تھی چنانچہ آپ نے فرمایا کہ اس وقت مسلمان سائن رپورٹ اور نہرو رپورٹ سے اس قدر دل برداشتہ اور کبیدہ خاطر ہو چکے ہیں کہ وہ گول میز کانفرنس کے نتائج کا انتظار کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئے بہت ممکن ہے کہ کوئی عصر جمہور اسلام کے جذبات کو فور اسول نافرمانی کی طرف دھکیل دے اس لئے مسلم اکابر کا فرض ہے کہ وہ قوم کو گول میز کانفرنس کی شرکت کے مرحلہ تک صبر کی تلقین کریں تاکہ وہ سول نافرمانی کے میدان میں نہ کو دیریں"۔فی الحقیقت یہ ایک راز تھا جسے دوسرے بزرگ الفاظ کی چادر میں لپیٹ رہے تھے مگر مرزا صاحب نے اس راز کا نقاب الٹ کر عریاں کر دیا۔راقم الحروف کو اس سے قبل مرزا صاحب کے خیالات کو صفحہ قرطاس پر تو دیکھنے کا ضرور موقعہ ملا تھا۔مگر بالمواجہ گفتگو سننے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔میرے دل پر اس کیفیت نے بہت اثر کیا اور میں نے اسی وقت صر صاحب اور قیصر صاحب سے اس کا ذکر کیا۔بہر کیف اس کانفرنس کی قرار داد میں جن جذبات کے ماتحت پاس ہو ئیں وہ جذبات ہر طرح قابل احترام تھے " کانفرنس کے صدر مولوی شوکت علی خان صاحب نے اپنے تاثرات انقلاب ۱۶ جولائی ۱۹۳۰ء میں شائع کرائے تھے۔جن کا ایک ضروری اقتباس درج ذیل ہے :- حاضرین جلسہ میں اسمبلی اور کو نسلوں کے بہت سے ارکان تھے۔علاوہ ملک فیروز خاں نون کے نوابزادہ محمد یوسف صاحب صوبہ متحدہ کے وزیر بھی موجود تھے مولوی محمد یعقوب ڈپٹی پریذیڈنٹ بھی شریک تھے۔سوراج پارٹی نئی انڈی پنڈنٹ پارٹی اور نئی بے نام پارٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔کو نسل اور اسمبلی کے اکثر سابق ارکان بھی تھے آئندہ کو نسلوں اور اسمبلی کے بہت سے امیدوار بھی تھے زمینداروں اور امیروں کا طبقہ خاص طور پر موجود تھا۔جس قدر تجربہ کار اصحاب موجود تھے۔ان کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ مباحثہ کا معیار بہت اونچا تھا۔اور تائید ہو یا ترمیم یا مخالفت تمام مقررین نے وقت کی اہمیت کا اندازہ کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جلسے بہت پر لطف رہے اور آپس میں بہت لوگوں کی نئی دوستیاں قائم ہو گئی ہیں۔خدا کے فضل و کرم سے اتنی نئی بات اور نمایاں طور پر دکھائی دی کہ حاضرین میں سے ہر شخص کے دل میں یہ تمنا تھی کہ وہ خود اور باقی تمام مسلمان بھی باتوں کو چھوڑ کر موجودہ سستی کاہلی اور بے ہمتی کو چھوڑ کر جلد تر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔اور تمام قوم کو بیدار کر کے چند ماہ کے اندر اس "