تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 160 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 160

تاریخ احمدیت جلده 156 خان صاحب کے بعد قرشی صاحب نے نہایت موثر پیرایہ میں کمیٹی کا نقطہ نگاہ واضح کیا اور اس جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کی۔اس تقریر کے بعد لوکل انجمن احمد یہ قادیان کے پریذیڈنٹ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے پر جوش تقریر کر کے یہ ریزولیوشن پیش کیا۔جو باتفاق رائے پاس ہوا۔لوکل جماعت احمدیہ قادیان پنجاب میں مسلمانوں کو چھپن فیصدی حقوق کے ملنے کی حامی ہے۔کیونکہ حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان ہمیشہ سے یہ مطالبہ مسلمانان پنجاب کے لئے پیش کرتے رہے ہیں۔بحیثیت ایک مستقل منظم جماعت کے یہ جماعت اپنے امام کی ہدایات کے ماتحت ۵۲ فیصدی کمیٹی کی ہر قسم کی جائز امداد کرے گی۔اور ہر وقت تعاون کے لئے تیار رہے گی"۔کانگریس نے نہرو کانگریس کا اجلاس لاہور اور مجلس احرار اسلام کی بنیاد رپورٹ" کے تسلیم کئے جانے کی نسبت اجلاس کلکتہ (دسمبر ۱۹۲۸ء) میں حکومت کو ایک سال کا جو نوٹس دے رکھا تھا اس کی معیاد دسمبر ۱۹۲۹ء تک تھی اس دوران میں کانگریس سول نافرمانی کی خفیہ اور علانیہ تیاریاں کرتی اور مسلمانوں اور حکومت دونوں کو دھمکیاں دیتی رہی۔اور بالآخر مہلت ختم ہوتے ہی اس نے ۲۱ / دسمبر ۱۹۲۹ء کے اجلاس لاہور میں اعلان کر دیا۔کہ چونکہ نہرو رپورٹ " منظور نہیں ہوئی اس لئے اب سول نافرمانی کا پروگرام عمل میں لایا جائے۔اور اب ہم درجہ نو آبادیات پر بھی قناعت نہیں کریں گے۔آزادی کامل حاصل کریں گے۔یہ اعلان پنڈت جواہر لال نہرو کی صدارت میں گاندھی جی نے کیا۔اس موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی چٹھی بعنوان An Appeal to Hindu " Leaders (ہندوؤں کے نام اپیل) تقسیم کی گئی جس میں حضور نے انہیں مسلم حقوق کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا "مسلمانوں کا مقصد صرف اس قدر ہے کہ وہ ملکی مفاد کی خاطر آئندہ مصائب کا اطمینان اور محفوظ ہونے کے احساس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں ہر اکثریت کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرے بلکہ انہیں ہر طرح مطمئن کرنے کی کوشش کرے۔مسلمان حب وطن اور اس کے استخلاص میں جدوجہد کے لحاظ سے برادران وطن سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں۔لیکن اقلیت میں ہونے کی وجہ سے وہ ملک کے آئندہ نظام میں اپنی پوزیشن کے متعلق طبعاً مشوش ہیں الخ "۔اس اپیل پر کانگریس کے لیڈروں نے بالکل التفات نہ کی اور مسلمانوں کے حقوق کو نظر انداز کر کے " آزادی کامل " کی قرار داد پاس کر دی جس کے معنے اس کے سوا کچھ نہ تھے کہ وہ بدیشی حکومت کو |