تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 159 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 159

تاریخ احمد بیت - جلد ۵ 155 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال ان کو اس بات پر ناز ہے کہ وہ دنیا میں سچائی کا اعلان کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اور وہ اسلام کی محبت میں اس قدر اندھے اور مجنون ہو رہے ہیں کہ جس قدر انسانی قلب کے لئے ممکن ہو سکتا ہے اگر چہ یہ لوگ دیگر مذاہب کو نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں (؟) لیکن وہ اس بات کے تکرار سے بھی کبھی نہیں تھکتے کہ اسلام بنی نوع انسان کی مساوات ، امن و امان اور مذہبی آزادی کا سبق دیتا ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس بات میں یہ لوگ بچے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی تمام طاقت اس بات کے پیش کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔کہ اسلام اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ تمدن کی تعلیم دیتا ہے۔اس جماعت کا اثر اس کے اعداد و شمار سے بہت زیادہ وسیع ہے۔مذہب میں ان کا طرز استدلال بہت سے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اختیار کر لیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے احمدیوں کا علم کلام عقلا ماننا پڑتا ہے"۔چھپن فیصدی کمیٹی کا وفد قادیان میں پنجاب میں مسلم آبادی چھپن فیصدی تھی اسی مناسبت سے ۱۹/ نومبر ۱۹۲۹ء کو جناب عبدالمجید صاحب سالک مدیر انقلاب کی تحریک پر دفتر " انقلاب " لاہور میں ”چھپن فیصدی کمیٹی " کے نام سے پروفیسر سید عبد القادر صاحب کی صدارت میں ایک انجمن قائم ہوئی۔جس کا مقصد مسلمانان پنجاب کے سیاسی حقوق کی حفاظت تھا۔ملک لال دین صاحب قیصر اور مولوی عبد المجید صاحب قرشی کمیٹی کے نمایاں ممبر تھے۔کمیٹی کے ساتھ ہی ”چھپن فیصدی کو ر کی بھی بنیاد ڈالی گئی۔اس کمیٹی کا ایک وفد جو مولوی عبد المجید صاحب قرشی اور مولوی محمد شریف صاحب پر مشتمل تھا۔۱۷/ دسمبر ۱۹۲۹ء کو قادیان آیا اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالٰی سے ملا۔حضور نے بتایا کہ ہم تو ۱۹۱۷ء سے برابر مسلمانان پنجاب و بنگال کے متعلق یہ معاملہ پیش کر رہے ہیں۔ہم آپ کی ہر قسم کی مدد کریں گے۔آپ اپنے خیالات ہماری جماعت کے سامنے پیش کریں اور یہاں قادیان ہی سے یہ کام شروع کر دیں اور اس کے ساتھ بعض اہم اور قیمتی ہدایات بھی دیں۔حضور سے اجازت حاصل ہونے پر مولوی ذوالفقار علی خان صاحب کی زیر صدارت قادیان میں ایک پبلک جلسہ منعقد ہو ا جس میں سب سے پہلے خان صاحب نے ۵۶ فیصدی سے متعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور جماعت احمدیہ کی مساعی جمیلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مسٹرما نمیگو وزیر ہند کی ہندوستان میں آمد کے وقت سے اس کے لئے ہم آواز بلند کر رہے ہیں اور اب سائمن کمیشن کے سامنے بھی اس حق پر زور دیا ہے پس چونکہ یہ معاملہ ہمیشہ ہماری ہی طرف سے اٹھتا رہا ہے اس لئے ہم دل و جان سے اس کے حامی ہیں اور ہر جائز امداد کے لئے تیار ہیں۔