تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 161 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 161

157 خلافت پاشید کا مسلمان سے تصفیہ حقوق کے بغیر ہی ملک سے نکال باہر کرنا چاہتی تھی حالانکہ اس مقصد کے حصول سے پہلے ہندوستانی قوموں کی سیاسی انفرادیت کی محافظت کی ضمانت ضروری تھی اس لئے کہ آزادی کامل تک پہنچنے کے لئے راہ میں جو منزلیں آتی تھیں وہ سب آئینی تھیں۔لہذا ان آئینی منزلوں تک کا راستہ بالکل آئینی حیثیت سے طے ہونا چاہئے تھا اور ابتداء ہی میں ان مختلف اقوام کو جو اس راہ پر گامزن ہونے والی تھیں آئینی حیثیت سے یہ اطمینان مل جانا چاہئے تھا کہ اس راہ کی آخری منزل تک پہنچتے پہنچتے ہر قوم کی انفرادیت اور اس کا سیاسی مفاد ہر طرح محفوظ رہے۔مگر یہ ضمانت ابھی تک ہندوستانی اقلیتوں کو نہیں ملی تھی۔بلکہ ابتدائی آئینی منزل ( نہرو رپورٹ) میں بھی مختلف قوموں کو جو ہم سفر تھیں بالکل نظر انداز کر دیا گیا تھا جس کے باعث ملک میں شدید بے چینی اور انتشار پیدا ہوا۔اور ساری جد و جہد آزادی ایک مخصوص (ہندو) قوم کی کشمکش اقتدار بن کر رہ گئی۔یہی وجہ تھی کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز شروع سے یہ آواز اٹھاتے آرہے تھے کہ آزادی کامل سے پہلے ہندو اکثریت سے جو آل انڈیا نیشنل کانگریس پر قابض ہے حقوق کے تصفیہ کی اشد ضرورت ہے ورنہ حکومت حاصل ہو جانے کے بعد سب کچھ اکثریت کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔یہ آواز ابتداء میں بہت کمزور تھی مگر نہرو رپورٹ کے بعد ملک کے گوشہ گوشہ سے اس زور کے ساتھ بلند ہوئی کہ مسلمانوں کی اکثریت نے " آزادی کامل" کے لفظ کے پیچھے پوشیدہ خطرے کو محسوس کر لیا اور اس بظاہر دلکش و دلفریب مگر حقیقت میں ملک اور خطرناک نعرہ میں کانگریس کی تائید کرنے سے صاف انکار کر دیا۔الله مسلمانوں کے سواد اعظم کے مقابل بعض انتہا پسند اور جوشیلے مسلمان جو کانگریس کی مہا سبھائی ذہنیت کا متعدد بار تجربہ کرنے کے باوجود کانگریس سے چھٹے ہوئے تھے اور نیشنلٹ" اور "خدائی خدمت گار " کہلاتے تھے یا " جمعیتہ العلماء ہند" سے مسلک تھے " آزادی کامل" کی قرارداد پر کانگریس کے اور بھی پر جوش حامی بن گئے۔ان جماعتوں کے علاوہ جو کانگریس کے دوش بدوش مسلمانوں میں کام کر رہی تھیں " آزادی کامل یکی قرار داد کو عملی جامہ پہنانے اور اس کی تحریک کو مسلمانوں تک پھیلانے کے لئے دسمبر ۱۹۲۹ ء میں یعنی کانگریس کے اجلاس لاہو ر ہی کے دنوں میں لاہور ہی میں مجلس احرار اسلام کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی بنیاد پڑی جس کے لیڈر اگرچہ شروع ہی سے ہر معاملہ میں کانگریس کی پر زور حمایت کرتے آرہے تھے مگر اب ایک نئے نام اور نئے پلیٹ فارم سے اپنی پہلی سرگرمیوں کو تیز تر کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب لکھتے ہیں۔" مجلس احرار کا سب سے پہلا جلسہ ۲۹ دسمبر ۱۹۲۹ء کانگریس کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ہوا۔