تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 158 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 158

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 154 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال جماعتیں موجود ہیں میں نے سوچا ہے ہر مبلغ کے لئے ایسے مقامات کے دورے لازمی کر دیے جائیں جہاں پہلے کوئی احمدی نہیں۔تانئی جماعتیں قائم ہوں جس جگہ پہلے ہی کچھ احمدی ہوتے ہیں وہاں پھر جماعت ترقی نہیں کرتی۔کیونکہ لوگوں میں ضد پیدا ہو جاتی ہے لیکن اگر مبلغین کو نئے مقامات پر بھیجا جائے تو ہر ایک کے لئے ماہ ڈیڑھ ماہ میں پانچ سات نئے آدمی جماعت میں داخل کرنا کچھ مشکل نہیں اور اس طرح پہلی جماعتوں میں بھی از سر نوجوش پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ جب ان کے قرب وجوار میں نئی جماعتیں قائم ہو جائیں تو وہ بھی زیادہ جوش اور سرگرمی سے کام کریں گے " پادری کریم ڈچ مشنری قادیان میں ہالینڈ کے ایک مشنری پادری ڈاکٹر کریمر ہالینڈ سے جاوا جاتے ہوئے ۱۵/ دسمبر ۱۹۲۹ء کو قادیان آئے حضور سے ملاقات کی اور سلسلہ کے مدارس اور دفاتر دیکھے۔اور شام کو واپس چلے گئے ڈاکٹر کریمر جماعت کی تنظیم اور جذبہ تبلیغ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے مسلم ورلڈ " (اپریل ۱۹۳۱ء) میں اپنے تاثرات مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع کئے۔جماعت احمد یہ مسلمانوں میں ایسی ہی جماعت ہے۔جیسی کہ ہندوؤں میں آریہ سماجی۔ان دونوں جماعتوں کا عیسائیت کے ساتھ خاص تعلق ہے کیونکہ یہ دونوں جماعتیں ہندوستان میں توسیع عیسائیت کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کر رہی ہیں۔ہندوستانی مسلمانوں پر عام طور پر مایوسی کا عالم طاری ہے بر خلاف اس کے جماعت احمد یہ میں نئی زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ جماعت قابل توجہ ہے۔یہ لوگ اپنی تمام توجہ اور طاقت تبلیغ اسلام پر خرچ کر رہے ہیں اور سیاست میں حصہ نہیں لیتے۔ان کا عقیدہ ہے کہ انسان جس حکومت کے ماتحت ہو اس سے وفادار رہے۔اور وہ صرف اس بات کی پرواہ کرتے ہیں کہ کونسی حکومت کے ماتحت ان کو تبلیغ اسلام کے مواقع اور سہولتیں حاصل ہیں۔اور وہ اسلام کو ایک مذہبی گروہ یا سیاسی نقطہ نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو محض صداقت اور خالص حق سمجھ کر تبلیغ کے لئے کوشاں ہیں اس لحاظ سے یہ جماعت فی زمانہ مسلمانوں کی نہایت عجیب جماعت ہے اور مسلمانوں میں صرف یہی ایک جماعت ہے جس کا واحد مقصد صرف تبلیغ اسلام ہے۔اگر چہ ان کی طرز تبلیغ میں کسی قدر سختی پائی جاتی ہے تاہم ان لوگوں میں قربانی کی روح اور تبلیغ اسلام کا جوش اور اسلام کے لئے سچی محبت کو دیکھ کر بے تحاشا صد آفرین نکلتی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب ایک زبر دست شخصیت کے آدمی تھے۔وہ فریق جو ان کو نبی مانتا ہے اس کا مرکز قادیان ہے۔میں جب قادیان گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں لوگ اسلام کے لئے جوش اور اسلام کی آئندہ کامیابی کی امیدوں سے سرشار ہیں اپنے آپ کو وہ غریبانہ طور پر پیغام پہنچانے والے نہیں سمجھتے۔بلکہ